قومی اسمبلی میں گپ شپ، خالی نشستیں،بانی کا ذکر
اپوزیشن نے حکومت پر بجٹ تنقید کی مگر وقت مکمل ہوتے ہی ایوان چھوڑ دیا
اسلام آباد (سید قیصر شاہ)وفاقی بجٹ پر قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے حکومت پر سخت تنقید کا سلسلہ جاری رہا، تاہم ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن دونوں اطراف کی جانب سے حاضری اور دلچسپی میں کمی بھی دیکھی گئی۔اپوزیشن اراکین نے اپنی تقاریر میں حکومت اور بجٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور مقررہ وقت کے بعد ایوان سے روانہ ہو گئے ۔ اسی طرح حکومتی اراکین بھی اپنی تقاریر کے بعد ایوان سے چلے گئے جس کے باعث کارروائی کے دوران دونوں جانب سے سنجیدگی کا فقدان نظر آیا۔اجلاس میں تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا تاہم اپوزیشن کی جانب سے اس پر کوئی واضح مطالبہ سامنے نہیں آیا جبکہ ایم کیو ایم کی ایک خاتون رکن نے تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد کے بجائے 10 سے 15 فیصد اضافے کی تجویز دی۔
شام کے وقت ایوان میں وزرا کی غیر موجودگی کے باعث اپوزیشن بینچز بھی خالی نظر آئے ۔ پی ٹی آئی اراکین نے اپنی تقاریر میں بانی پی ٹی آئی اور دیگر سیاسی قیدیوں کا بار بار ذکر کیا۔اجلاس کے دوران خواتین اراکین کی تعداد مرد اراکین کے مقابلے میں زیادہ دکھائی دی جبکہ ارکان مسلسل آپس میں گفتگو اور غیر رسمی بات چیت میں مصروف رہے ۔ اس پر ڈپٹی سپیکر نے ریمارکس دئیے کہ اگر ارکان نے صرف گپ شپ ہی کرنی ہے تو لابی میں جا کر کریں۔ایک موقع پر پی ٹی آئی کے رکن نے کہا کہ وہ وقت آئے گا جب بانی پی ٹی آئی دوبارہ وزیراعظم بنیں گے جس پر حکومتی ارکان نے جواب دیا کہ یہ صرف خواب ہے۔