وزیراعظم سے بلاول کی ملاقات،بجٹ، آزاد کشمیر صورتحال، ایران معاہدے پر تبادلہ خیال : کشیدگی کے بادل چھٹ گئے، شہباز شریف

وزیراعظم سے بلاول کی ملاقات،بجٹ،  آزاد کشمیر صورتحال، ایران معاہدے پر تبادلہ خیال : کشیدگی کے بادل چھٹ گئے، شہباز شریف

بجٹ، آزاد کشمیر کی صورتحال،ایران معاہدے پرتبادلہ خیال، وفاق ، صوبوں میں باہمی تعاون قومی ترقی کیلئے ناگزیر، وزیراعظم بلاول کا مشرق وسطیٰ امن کوششوں پر وزیر اعظم ،فیلڈ مارشل کو خراج تحسین، جی بی میں حکومت سازی ،تعاون پر شکریہ ادا کیا

 اسلام آباد (نامہ نگار،دنیا نیوز)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف سے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی،ملاقات میں ایران، امریکا امن معاہدے ، وفاقی بجٹ، آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال اور گلگت بلتستان میں حکومت سازی سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، بلاول نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے تناظر میں امن کوششوں پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کیا،دونوں رہنماؤں نے وفاقی بجٹ سے متعلق امور پر بھی تفصیلی گفتگو کی، آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال بھی ملاقات کے ایجنڈے میں شامل رہی۔

وزیراعظم اور چیئرمین پی پی نے وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ بھی لیا،وزیر اعظم نے وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری اور باہمی تعاون کو قومی ترقی کے لئے ناگزیر قرار دیا،ملاقات میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ قومی اہمیت کے منصوبوں کی کامیاب تکمیل اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لئے وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان قریبی تعاون جاری رکھا جائے گا،چیئرمین پیپلزپارٹی نے گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے تعاون اور حمایت پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ملاقات میں پیپلزپارٹی کی جانب سے شیری ر حمن اور نوید قمر شریک ہوئے ، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے وفد میں اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، اعظم نذیر تارڑ اور احد چیمہ موجود تھے۔

 اسلام آباد (نامہ نگار )وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مشکل معاشی صورتحال میں عوام دوست بجٹ پیش کیا، جس سے صنعت کا پہیہ تیز ہوگا، اور برآمدات پر مبنی معیشت کو فروغ ملے گا،وہ ملاقات کے لئے وزیر اعظم ہائوس آنے والی مسلم لیگ (ن) کی خواتین ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ گفتگو کررہے تھے ،وزیرِ اعظم نے خواتین ارکان پارلیمنٹ کا خیر مقدم کیا اور بجٹ اجلاس میں بھرپور شرکت پر اظہار تشکر کیا،وزیراعظم نے کہاکہ حکومت نے جس قدر ممکن ہو سکا، بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی ،بجٹ میں خواتین کو خودمختار بنانے اور انکی قومی دھارے میں شمولیت میں اضافے کیلئے اقدامات شامل ہیں۔پاکستانی خواتین کو ملکی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرنے کیلئے با اختیار بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔وزیراعظم نے کہاکہ اللہ کے فضل و کرم سے خطے میں کشیدگی کے بادل چھٹے اور امن کے قیام کی کوششیں کامیاب ہو گئیں۔

انہوں نے کہاکہ کشیدگی کے آغاز سے ہی حکومت پاکستان بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور حکومت پاکستان کی پوری ٹیم امن کے قیام کی کوششوں میں خلوص نیت کے ساتھ سرگرم عمل رہی۔ خطے اور عالمی امن کے دیر پا قیام سے ہی پاکستان اور دیگر ممالک کی معاشی ترقی کا خواب پورا ہوگا۔حکومت نے گزشتہ مہینوں میں عوام کو عالمی مہنگائی کی لہر سے جس قدر ممکن ہو سکا بچانے کی بھرپور کوشش کی ،وزیراعظم نے کہاکہ اللہ کے فضل و کرم سے خطے کے دیگر ممالک کی طرح نہ تو ملک میں کوئی بحران آیا اور نہ ہی ایندھن کیلئے لمبی قطاریں دیکھنے کو ملیں، حالیہ بحران میں سب سے پہلے قربانی کا آغاز کابینہ اور سرکاری اداروں سے کیا،یہ ممکن نہیں کہ اس ملک کے عوام قربانی دیں اور اشرافیہ مراعات حاصل کرتی رہے۔

وزیراعظم نے کہاکہ حکومت نے 128 ارب روپے کی سبسڈی اور بڑے پیمانے پر کفایت شعاری مہم سے عوام کی پریشانیوں کو کم کرنے کی بھرپور کوشش کی ،حالیہ حالات میں ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لئے وفاق اور صوبوں نے مکمل تعاون کیا جس پر صوبائی حکومتوں کے تہہ دل سے مشکور ہیں، اس تمام صورتحال کے دوران ملکی معیشت کے استحکام میں عوامی تعاون کا بہت بڑا کردار رہا، جس پر پاکستان کے عوام کو بھرپور خراج تحسین پیش کرتے ہیں،انہوں نے کہاکہ آئندہ سال کے بجٹ میں ہماری توجہ آبی ذخائر میں اضافہ، آئی ٹی، زراعت اور معدنیات پر مرکوز ہے تاکہ پاکستانی معیشت کو مضبوط بنیاد فراہم کریں، خطے میں امن اور صورتحال معمول پر آنے کے بعد مثبت معاشی اثرات عوام کو منتقل کئے جائیں گے ۔ یہ تمام تر کاوشیں ٹیم پاکستان کی مشترکہ جدوجہد کا نتیجہ ہے اور انشااللہ یہ ٹیم پاکستان کو دنیا کی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرے گی۔

خواتین اراکین پارلیمنٹ نے وزیراعظم کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا اورمتعلقہ حلقوں میں عوامی فلاح و بہبود کے حوالے سے جاری منصوبوں اور بجٹ کے حوالے سے تجاویز پیش کیں،ارکان پارلیمنٹ میں سیدہ نوشین افتخار، بیگم تہمینہ دولتانہ، شائستہ خان، طاہرہ اورنگزیب، شائستہ پرویز، منیبہ اقبال، نزہت صادق، مسرت آصف خواجہ، رومینہ خورشید عالم، زیب جعفر، کرن عمران ڈار، زہرہ ودود فاطمی، آسیہ ناز تنولی، صبا صادق، فرح ناز اکبر، شہناز سلیم ملک، زینب محمود بلوچ، کرن حیدر، اختر بی بی، غزالہ انجم، مس شاہین، ثمر ہارون بلور، سعیدہ جمشید، تمکین اختر نیازی، سائرہ تار ڑ، ہما اختر چغتائی، ماہ جبین خان عباسی، گلناز شہزادی، شمائلہ رانا، شازیہ فرید، سیدہ آمنہ بتول، رابعہ نسیم فاروقی، ارم حامد حمید اور مس نیلم شریک تھیں۔اس موقع پر وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ، وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چو دھری، رانا مبشر اقبال، وجیہہ قمر اور طلحہ برکی بھی موجود تھے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں