ہمارے ہاں مسائل کی بنیادی وجہ نہیں دیکھتے :سپریم کورٹ
مسابقتی کمیشن کے جرمانہ کیخلاف مینوفیکچررز آف وناسپتی کی اپیل پر فیصلہ محفوظ لیکچررز سینیارٹی کیس ،سندھ سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار،حکومتی درخواستیں مسترد
اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں کمی سے متعلق مسابقتی کمیشن کی جانب سے عائد جرمانے کے خلاف مینوفیکچررز آف وناسپتی ایسوسی ایشن کی اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ہمارے ملک میں مسائل کی بنیادی وجوہات کو نہیں دیکھا جاتا،جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا پولٹری کیس میں بھی ایسوسی ایشن پر جرمانے کا فیصلہ آ چکا ہے ۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے مزید ریمارکس دئیے کہ اگر مسابقتی کمیشن کا مؤقف تسلیم کر لیا جائے تو مستقبل میں حکومت بھی کسی معاملے میں مؤثر کردار ادا نہیں کر سکے گی۔سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے لیکچررز سینیارٹی کیس میں سندھ سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے حکومت سندھ کی تمام درخواستیں مسترد کر دیں۔ عدالت نے آبزرو کیا کہ سینیارٹی کے معاملات میں اصل متاثرہ فریق متعلقہ ملازمین ہوتے ہیں حکومت نہیں،اگر کوئی ملازم ٹربیونل کے فیصلے کو چیلنج نہ کرے تو حکومت کو ایک غیر جانبدارکے طور پر فیصلے پر عملدرآمد کرنا چاہیے ،نہ کہ ایک مخالف فریق کی حیثیت سے مقدمہ بازی کو طول دینا چاہیے ۔
تفصیلی فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر نے تحریر کیا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ سندھ سول سرونٹس رولز 1975 کے رول 11(a)کے تحت پہلے انتخاب میں منتخب ہونے والا ملازم بعد کے انتخاب میں منتخب ہونے والے ملازم سے سینئر شمار ہوگا ،مشترکہ سینیارٹی فہرست بناتے وقت بھی اس بنیادی اصول کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے شیرزالی و دیگر بنام سعد اﷲ خان حقِ شفعہ سے متعلق مقدمے میں قرار دیا ہے کہ دعویٰ شفعہ میں طلبِ مواثبت کی تاریخ، وقت اور مقام کا واضح طور پر ذکر کرنا قانونی طور پر لازمی ہے بصورت دیگر دعویٰ برقرار نہیں رہ سکتا۔ عدالت نے پشاور ہائی کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا دعویٰ مسترد کرنے کا فیصلہ بحال کر دیا۔ فیصلے کے مطابق حقِ شفعہ کے دعوئوں میں قانونی تقاضوں کی معمولی خلاف ورزی بھی دعویٰ کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے ۔