بھارت نے پانی روکنے کی کوشش کی تو یہ ’جنگی اقدام‘ تصور کیا جائیگا: پاکستان
بھارت جنگ کے بیج بونے سے گریز کرے :اسحاق ڈار، آبنائے ہرمز کی بندش سے امن کا تصور ممکن نہیں توسندھ طاس معاہدے کی معطلی سے کیسے ہوگا:بلاول بھٹو زرداری چناب بیاس لنک کی تعمیر غیر قانونی،بھارت سندھ طاس معاہدہ معطل کر سکتا ہے اور نہ ختم :مہر علی شاہ، پانی روکنے کی کوشش پر مؤثر جواب دینے کیلئے پرعزم :عطاتارڑ اپنے حصے کے پانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے :مصدق ملک،پاکستان اپنے پانی کی حفاظت کر ے گا:خرم دستگیر، دونوں ممالک میں مکالمے کی ضرورت :احمر بلال صوفی پانی روکنا جنگی جرم، چین کو سندھ طاس معاہدے میں شامل کریں:وکٹر گاؤ ، عدم استحکام بڑھ سکتا:روکسو،صورتحال خطرناک:لوری اے واٹکنز ،سیمینار میں تقریریں
اسلام آباد (نامہ نگار،وقائع نگار ،دنیا نیوز،اے پی پی )پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ انڈیا کے ساتھ کوئی تصادم یا تنازع نہیں چا ہتے لیکن ملک کے آبی وسائل کو روکنے کی کوشش کو ایک جنگی اقدام تصور کیا جائے گا،مزید کہا گیا ہے کہ بھارت جنگ کے بیج بونے سے گریز کرے اور جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے میں نہ ڈالے ، پانی کے حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،سندھ طاس معاہدہ صرف ایک معاہدہ نہیں بلکہ اس پر 24 کروڑ افراد کی زندگیوں کا انحصار ہے ، اس کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا، اسلام آباد میں ’’سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک اہم ذریعہ‘‘ کے موضوع پر بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد کیا گیا ، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، سینٹر فار چائنہ اینڈ گلوبلائزیشن کے نائب صدر ڈاکٹر وکٹر گاؤ، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی سید مہر علی شاہ، سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر، عالمی قوانین کے ماہر احمر بلال صوفی اور مختلف ممالک کے مندوبین و آبی ماہرین شریک ہیں۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت جنگ کے بیج بونے سے گریز کرے اور جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے میں نہ ڈالے ، اس خطے میں پائیدار امن کا راستہ طاقت یا دھمکی نہیں، اگر پانی کا رخ موڑنے یا قانونی حقوق میں کمی لانے کی کوشش کی گئی تو اسے جنگ کے مترادف تصور کیا جائے گا،کسی بین الاقوامی معاہدے کو کمزور یا سبوتاژ کرنے کی قیمت بہت بھاری ہوسکتی ہے۔
بین الاقوامی قانون و معاہدوں کی خلاف ورزی کی جائے تو اس کے نتائج صرف 2 ممالک تک محدود نہیں رہتے ،دریاؤں کے پانی روکنے کے اقدامات بین الاقوامی تعلقات میں ایک خطرناک مثال قائم کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ کو غیر قانونی طور پر معطل کر کے نہ صرف بین الاقوامی قانونی نظام کو کمزور کیا ہے بلکہ خطے کو تنازع کے خطرے سے بھی دوچار کر دیا ہے ، پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ انسانی وقار، معاشی خوشحالی اور ماحولیاتی پائیداری کی بنیاد ہے ، پانی سیاسی سرحدوں کا پابند نہیں ہوتا بلکہ زندگی کو برقرار رکھتا ہے ،نائب وزیراعظم نے کہا کہ وعدہ خلافی ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کی بنیادوں کو متزلزل کر دیتی ہے جب کہ قوانین کی بالادستی پر قائم نظام بھی کمزور ہوتا ہے ، جس پر بین الاقوامی امن و سلامتی کا انحصار ہے ،جنوبی ایشیا کو پہلے ہی بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے ، ایسے میں عالمی معاہدوں اور بین الاقوامی قوانین کا احترام ناگزیر ہے ،سندھ طاس معاہدہ کئی برسوں پر محیط طویل مذاکرات کے بعد طے پایا تھا، جس کا مقصد دستیاب آبی وسائل کا بہترین اور منصفانہ استعمال یقینی بنانا تھا،اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان امن، مذاکرات اور اچھے ہمسایہ تعلقات کیلئے اپنے عزم پر ثابت قدم ہے اور عالمی قانون، معاہدوں پر عملدرآمد اور آبی حقوق کے احترام پر یقین رکھتا ہے ،انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر کسی بھی قسم کا غیرقانونی قبضہ یا تجاوز ہرگز قبول نہیں کرے گا اور اپنے حقوق و مفادات کے تحفظ کیلئے عالمی قوانین اور سفارتی ذرائع سے مؤثر انداز میں کام جاری رکھے گا ،انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہ دے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پانی کے وسائل عالمی سیاست اور سلامتی کا مرکزی مسئلہ بن چکے ہیں، اگر آبنائے ہرمز کی بندش کے ساتھ امن کا تصور ممکن نہیں تو دنیا یہ کیسے توقع کرسکتی ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے باوجود خطے میں امن اور استحکام برقرار رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کی شہ رگ کو نشانہ بنا کر پانی کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی میں بھارت کے ہر اقدام کو پاکستان کے خلاف جنگی اقدام تصور کیا جائے ،جس طرح آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کو متاثر کرتی ہے ، اسی طرح دریائے سندھ کا پانی پاکستان کی زندگی کی ضمانت ہے ،انہوں نے کہا کہ سمندری گزرگاہوں یا آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا عالمی امن کیلئے خطرناک رجحا ن ہے ، سندھ طاس معاہدہ کی بحالی کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن ممکن نہیں،انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جنگ بندی کی شرائط پر عمل کیا جبکہ بھارت نے اپنے وعدوں کی مکمل پاسداری نہیں کی، سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے حصے کے پانی کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہئے ، سندھ محض ایک دریا نہیں بلکہ کروڑوں شہریوں کی زندگی، زراعت اور معیشت کا ذریعہ ہے ۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر پاکستان کا حق بین الاقوامی معاہدے کے تحت تسلیم شدہ ہے ، پانی کے معاملے کو محض تکنیکی تنازع نہیں بلکہ قومی سلامتی کے مسئلے کے طور پر دیکھا جانا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آبی حقوق کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا قومی سطح پر جواب دیا جائے گا، پاکستان امن کا خواہاں ہے لیکن اپنے عوام کے بنیادی حقوق اور آبی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ کروڑوں عوام کے حقِ آب کے تحفظ پر پوری پاکستانی قوم متحد ہے ، پانی کا سیاسی دباؤ یا بطور ہتھیار استعمال بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے منافی ہے۔
کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی سید مہر علی شاہ نے سیمینار میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ صرف ایک دستاویز نہیں بلکہ چوبیس کروڑ پاکستانیوں کی زندگی کا معاملہ ہے ،بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ کو نہ تو معطل کر سکتا ہے اور نہ ہی ختم کر سکتا ہے ، ، سندھ طاس معاہدے سے ہماری زراعت، خوراک، معیشت جڑی ہوئی ہے ، یہ معاہدہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور امن کیلئے ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ معاہدے میں مسائل کے حل کا جامع طریقہ کار موجود ہے ، معاہدے میں مجموعی طور پر بارہ شقیں ہیں، معاہدے کے تحت فریقین کو دریاؤں کے بہاؤ سے متعلق معلومات فراہم کرنا لازمی ہے ۔انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت اگر مسائل دونوں فریقین سے حل نہیں ہوتے تو پھر معاملہ ثالث کے پاس جائے گا، معاہدے کی شق 9 کے تحت بین الاقوامی ثالث عدالت کے پاس معاملہ لے جایا جا سکتا ہے ، پاکستان دو بار بھارت کی جانب سے متنازعہ بجلی گھر بنانے کا معاملہ ثالثی عدالت لے جا چکا ہے ۔کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی کا کہنا تھا کہ عالمی ثالثی عدالت دو بار معاہدے کی وضاحت کر چکی ہے ، ثالثی عدالت فیصلے میں واضح کر چکی ہے کہ بھارت معاہدے کو یکطرفہ معطل یا ختم نہیں کر سکتا، ثالثی عدالت نے بھارت کو کہا ہے کہ مغربی دریاؤں کے بہاؤ میں کوئی خلل نہ ڈالے ۔سید مہر علی شاہ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل رکھنا مکمل غیر قانونی اور معاہدے کی خلاف ورزی ہے ، بھارت اگست 2023 سے معاہدے پر عمل نہیں کر رہا، دریاؤں کے پانی کے بہاؤ سے متعلق درست اور بروقت معلومات دینا لازمی ہے۔
پاکستان دریاؤں کے نشیب کی طرف ہے ، یہ ڈیٹا پاکستان کیلئے بہت ضروری ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز بھی بھارت کو اس بارے میں خط لکھ کر ڈیٹا فراہمی کا کہہ چکے ہیں، بھارت کی جانب سے دریاؤں کے پانی کے بہاؤ کے بارے میں ڈیٹا فراہم نہ کرنے سے کروڑوں پاکستانیوں کی زندگی متاثر ہو سکتی ہے ، بھارت چناب کے پانی کا رخ موڑ کر 1.9 ملین پانی کا بہاؤ متاثر کرنے جا رہا ہے ، پاکستان اپنے حصے کے پانی کو موڑنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔انہوں نے کہا بھارت کی جانب سے چناب بیاس لنک کی تعمیر مکمل غیر قانونی ہے ، سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت چناب کا پانی بیاس میں نہیں ڈال سکتا، معاہدے کے تحت بھارت اس لنک کی پاکستان کو معائنے کی اجازت دینے کا پابند ہے ۔کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا معاملہ اقوام متحدہ میں بھی لے جا چکا ہے ، پانی لوگوں کی زندگیوں سے جڑا ہے اسے بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ سینٹر فار چائنہ اینڈ گلوبلائزیشن کے نائب صدر ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے کہا ہے کہ کروڑوں لوگوں کیلئے پانی کا بہاؤ روکنا جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے ،انہوں نے سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد پر زور دیتے ہوئے تجویز دی ہے کہ چین کو بھی اس معاہدے کا حصہ بنایا جائے تاکہ اسے سہ فریقی فریم ورک کی شکل دی جا سکے ، بھارت مکمل طور پر ناانصافی کر رہا ہے ،ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے کہا کہ ایک سال قبل بھارت نے پاکستان کی جانب بہنے والے دریاؤں کا پانی روکنے کی دھمکیاں دینا شروع کیں، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے یہ بھی کہا کہ دریائے سندھ کا ایک قطرہ پانی بھی پاکستان نہیں جانے دیا جائے گا۔
ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے کہا کہ انہوں نے ایک بھارتی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں واضح کیا تھا کہ پانی روکنے کی دھمکی انسانیت کے خلاف جرم ہے ۔انہوں نے بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دوسروں کے ساتھ وہ سلوک نہ کیا جائے جو کوئی اپنے لیے پسند نہیں کرتا۔ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے مزید کہا کہ دریائے سندھ کے نظام سے متعلق بھارت کا طرزِ عمل انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے اور اس معاملے کو انسانی اور بین الاقوامی قانون کے تناظر میں دیکھا جانا چاہئے ۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام کا دریائے سندھ کے نظام کے پانی پر پورا حق ہے ، بھارت نے پانی میں رکاوٹ ڈالی تو بھرپور جواب دیں گے ، پاکستان کیلئے پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ بقاء کا معاملہ ہے ۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ سیمینار میں شریک تمام مندوبین کو خوش آمدید کہتا ہوں، سندھ طاس معاہدہ امن، علاقائی استحکام کا ایک اہم ذریعہ ،سیمینار سے خطاب اعزاز ہے ، ہم ایک معاہدے پر نہیں بلکہ 24 کروڑ عوام کی زندگی کہ شہ رگ پر بات کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وادی سندھ کی تہذیب ہی ہماری اصل شناخت، ہم اس عظیم تہذیب کے وارث ہیں، دریائے سندھ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کی آبیاری کرتا آیا ہے ، پاکستان کی تاریخ دراصل دریائے سندھ کی تاریخ ہے ، گلگت بلتستان سے لیکر پنجاب اور سندھ تک دریائے سندھ نسلوں کی آبیاری کرتا آیا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کیلئے پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ بقاء کا معاملہ ہے ، دریائے سندھ کے پانی کے تحفظ کیلئے ہر طریقہ اپنائیں گے ، زراعت قومی معیشت کا بنیادی ستون اور دریائے سندھ اس کی شہ رگ ہے ، چھ دہائیاں قبل دو ممالک نے ایک غیر معمولی فیصلہ کیا، فیصلے کے نتیجے میں سب سے پائیدار آبی معاہدوں میں سے ایک وجود میں آیا۔
عطاء تارڑ نے کہا کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی تعلقات میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے ، پاکستان نے ہمیشہ پُرامن روابط، تعمیری مذاکرات اور معاہدے پر مخلصانہ عملدرآمد کے عزم کا مظاہرہ کیا، بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کیا، ہمیں اس عزم کا اظہار کرنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ برقرار رہے گا، معاہدوں کی پاسداری ہی قوموں کے درمیان اعتماد اور عالمی نظام کے استحکام کی بنیاد ہے ۔وزیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ پانی روکنے کی کوشش کی گئی تو قومی قیادت مؤثر جواب دینے کیلئے پرعزم ہے ، پاکستان ہر صورت سندھ طاس معاہدے کے تقدس کا تحفظ کرے گا، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا علاقائی و عالمی امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے ، ہمیں پانی کو تنازع کے بجائے تعاون کا ذریعہ بنانا چاہیے ۔ آبی ماہر لوری اے واٹکنز نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ 60 برس سے زائد عرصے تک مؤثر انداز میں کام کرتا رہا اور اسے ایک انتہائی مشکل مقصد کیلئے تشکیل دیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں دریاؤں سے متعلق معاہدے تنازعات کو روکنے کیلئے کیے جاتے ہیں۔ پاکستان نے دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ کے حوالے سے بھارت کو باضابطہ خطوط ارسال کیے جو محض انتظامی یا تکنیکی شکایت نہیں تھی بلکہ ایک اہم قانونی معاملہ تھا۔لوری اے واٹکنز کا کہنا تھا کہ دنیا کے دریائی نظاموں کا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ اس نوعیت کی صورتحال خطرناک ثابت ہو سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے عالمی عدالتوں کے فیصلوں کو مسترد کیا۔انہوں نے کہا کہ ویانا کنونشن کے مطابق بین الاقوامی معاہدوں پر نیک نیتی کے ساتھ عمل کیا جانا چاہیے ، انڈس کمیشن عالمی معیار کے مطابق ایک غیرمعمولی اور قابلِ قدر ادارہ ہے۔
لوری اے واٹکنز نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت مشترکہ معائنے اور تنازعات کے حل کا مرحلہ وار نظام وضع کیا گیا ہے ، آبی معلومات کا تبادلہ رک جانے سے بداعتمادی، غلط اندازوں اور بالآخر کشیدگی کو جنم ملتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی بین الاقوامی آبی معاہدے کی اصل طاقت فریقین کے درمیان رابطوں کے تسلسل اور مؤثر تعاون میں مضمر ہوتی ہے ۔وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پانی کی عدم دستیابی سے کسان، زراعت چھوڑنے پر مجبور ہوئے ، پانی کی عدم دستیابی سے صرف پاکستانی ہی نہیں بلکہ بنگلہ دیشی لوگ بھی متاثر ہو رہے ہیں ، مرالہ ہیڈورکس پر ایک دن پانی بہت کم تو دوسرے دن سیلابی صورت میں بھارت سے آتا ہے ، یہ ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ انصاف کا ہے ،بھارت نہ صرف ہمارے پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرتا ہے بلکہ دنیا کا تیسرا آلودگی پھیلانے والا ملک بھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی وجہ سے ہمارے 6 ہزار لوگ جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں، چھ ہزار لوگ جنگوں میں بھی نہیں مرتے ۔مصدق ملک کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کر کے اسے بطور ہتھیار استعمال کرنا ہے ، سندھ طاس معاہدہ دنیا کے مضبوط ترین معاہدوں میں سے ایک ہے ، یہ معاہدہ دو ہمسایہ ملکوں کے درمیان تین جنگوں میں بھی قائم رہا، اگر یہ مضبوط ترین معاہدہ قائم نہ رہا تو پھر دنیا کا کوئی بھی معاہدہ قائم نہیں رہ سکتا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کسی ایک ملک کو علاقائی اور عالمی امن کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ہم عالمی ثالثی عدالت سے بھی رجوع کر چکے ہیں، عالمی ثالثی عدالت بہت واضح فیصلے دے چکی، عالمی ثالثی عدالت قرار دے چکی کہ کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل یا ختم نہیں کر سکتا، بھارت پانی کے بہاؤ کو یکطرفہ نہیں موڑ سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ عالمی ثالثی عدالت قرار دے چکی کہ بھارت پاکستان کے حصے کے پانیوں پر پانی کے ذخائر نہیں بنا سکتا، بھارت عالمی ثالثی عدالت کے فیصلوں کو تسلیم کرنے سے بھی انکاری ہے ، اگر یہ معاہدہ کامیاب نہیں ہوا تو پھر دنیا کے ہر نشیبی ملک کے حصے کا پانی روکا جائے گا، یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ دنیا بھر کا مسئلہ ہے ۔ڈاکٹر مصدق ملک نے مزید کہا کہ پاکستان نے تباہ کن سیلابوں کا سامنا کیا ہے ، یہ ماحولیاتی مسئلہ نہیں، انصاف کا معاملہ ہے ، پاکستان میں بڑے طبقے کا ذریعہ معاش زراعت ہے جو پانی سے منسلک ہے ، پاکستان واضح کر چکا، وہ اپنے حصے کے پانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ بین الاقوامی سیمینار میں روسی ماہر عالمی امور ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے بھارت کے آبی مؤقف پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے ، سندھ طاس معاہدہ خطے میں پانی کی منصفانہ تقسیم کی بنیاد ہے ، بھارت کے بالائی علاقوں میں ڈیموں کی تعمیر خطے میں عدم استحکام بڑھا سکتی ہے ،روسی ماہر عالمی امور نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ علیحدگی کی کوئی گنجائش موجود نہیں، پانی پر تعاون ہی خطے میں امن اور استحکام کی ضمانت ہے ، پاکستان کے 21 بڑے پن بجلی منصوبے دریائے سندھ کے نظام سے وابستہ ہیں۔
بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر خان کا کہنا تھا کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے ، بھارتی قیادت اعلان کر چکی ہے کہ پاکستان کو ایک قطرہ پانی بھی نہیں ملے گا۔انہوں نے کہا کہ اپریل 2025 سے بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل رکھا ہوا ہے ، 2025 سے بھارت سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے ، بھارت مشرقی دریاؤں میں بغیر اطلاع دیئے پانی کا بڑا بہاؤ چھوڑ دیتا ہے ، بھارتی اقدام سے 73 لاکھ پاکستانی متاثر ہوئے ۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت پانی کو روک کر سیلابی صورت میں چھوڑ کر پاکستانی عوام کو مسلسل نقصان پہنچا رہا ہے ، عالمی سطح پر پانی پر شہری کا بنیادی حق ہے ، عالمی ثالثی عدالت کے مطابق سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل نہیں رکھا جا سکتا۔خرم دستگیر خان نے کہا کہ جنیوا معاہدے کے تحت بھی پانی کو کسی اور مسئلے سے جوڑ کر نہیں روکا جا سکتا، پانی روک کر بڑی آبادی کو غذائی قلت سے دوچار کرنا عالمی جرم ہے ، بھارت جان بوجھ کر چوبیس کروڑ پاکستانیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے ، مزید کہا کہ پاکستان پر صورت اپنے حصے کے پانی اور اپنی تہذیب کی حفاظت کرے گا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کے ماہر احمر بلال صوفی نے کہا کہ دنیا بھر میں پانی، ہوا، خوراک کو بنیادی انسانی ضروریات قرار دیا جا چکا ہے ، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو ’’غیر موجودہ‘‘حالت میں رکھنا مکمل غیر قانونی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو دوسرے امور سے منسلک کیا جا رہا ہے ، پہلگام واقعے کے بعد بھارت کو عالمی قوانین کے تحت پاکستان کو معلومات اور تفتیش میں تعاون کیلئے تحریری لکھنا ضروری تھا، بھارت نے قانونی راستہ اپنانے کی بجائے کشیدگی اور جنگ کا راستہ چنا ، پاکستان بھارت کے قانونی ماہرین کے درمیان مکالمے کی ضرورت ہے۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ کا نظام دنیا کے سب سے بڑے آبپاشی نیٹ ورک کو پانی فراہم کرتا ہے ، جس کا بڑا حصہ پاکستان میں واقع ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس نظام پاکستان کی زراعت، معیشت اور توانائی کی ضروریات کا بنیادی سہارا ہے اور ملک کی ترقی و خوشحالی اسی نظام سے وابستہ ہے ،پاکستان کا پانی روکنا ملک کے بنیادی قومی مفادات پر براہِ راست حملہ تصور ہوگا جب کہ بالائی دھارے میں واقع کوئی بھی ملک بین الاقوامی اصولوں کے تحت زیریں دھارے کے ملک کا پانی بند نہیں کر سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کے پس منظر میں ایک اہم تاریخی واقعہ اپریل 1948 کا تھا، جب بھارت نے غیرقانونی طور پر پاکستان کی جانب آنے والے مشرقی دریاؤں کا پانی روک دیا تھا، اس وقت انہی دریاؤں سے نکلنے والی نہریں پنجاب کی وسیع زرعی اراضی کو سیراب کرتی تھیں۔اُن کامزید کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے پانی بند کیے جانے کے بعد اس تنازع پر باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہوا، جو تقریباً دس برس تک جاری رہے ، ان مذاکرات میں بین الاقوامی ماہرین اور ورلڈ بینک نے کلیدی کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں سندھ طاس معاہدہ طے پایا۔ سابق وزیر مملکت خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں کسی بھی تبدیلی کا واضح طریقہ کار موجود ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے بھارت ایک بین الاقوامی طور پر پابند معاہدے کے حوالے سے اپنے غیر قانونی اقدام سے بچ نکلنے میں کامیاب رہا۔