گرمی:پانی کی طلب میں اضافہ،فلٹریشن پلانٹس منصوبہ تاحال نامکمل
40 اضلاع میں 5 ہزار فلٹریشن پلانٹس نصب ہونے تھے ،صرف 2 ہزار لگ سکے لاہور میں 280فلٹریشن پلانٹس غیرفعال ،121 مکمل بند ہونے کا بھی انکشاف
لاہور (شیخ زین العابدین) لاہور سمیت پنجاب بھر میں شدید گرمی کے باعث پینے کے پانی کی طلب بڑھ گئی، جبکہ صوبے میں 5 ہزار فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب کا منصوبہ تاحال مکمل نہ ہو سکا، ادھورے منصوبے اور متعدد غیرفعال فلٹریشن پلانٹس کے باعث شہریوں کو صاف پانی کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ذرائع کے مطابق پنجاب میں شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی کیلئے صوبائی حکومت کی جانب سے 40 اضلاع میں 5 ہزار فلٹریشن پلانٹس نصب کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا اور اس منصوبے پر عملدرآمد کی ذمہ داری پنجاب صاف پانی اتھارٹی کو سونپی گئی، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 5 ہزار فلٹریشن پلانٹس میں سے اب تک تقریباً 2 ہزار فلٹریشن پلانٹس ہی نصب کیے جا سکے ہیں ، 3 ہزار فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب کا منصوبہ تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔شدید گرمی کے دوران صاف پانی کی فراہمی کے اس بڑے منصوبے کی رفتار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
صوبائی دارالحکومت لاہور کی صورتحال بھی مختلف نہیں ،یہاں تقریباً 1100فلٹریشن پلانٹس لگنے تھے ،تاہم ان میں سے 929 پلانٹس کی تنصیب ہی مکمل ہو سکی۔اعداد و شمار کے مطابق شہر میں280فلٹریشن پلانٹس غیرفعال ہیں ،121 مکمل طور پر بند ہونے کا بھی انکشاف ہواہے ۔پنجاب صاف پانی اتھارٹی کے زیر انتظام چلنے والے فلٹریشن پلانٹس میں بھی کئی یونٹس فعال نہیں۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق اتھارٹی کے زیر انتظام 79 فلٹریشن پلانٹس فعال ہیں جبکہ 41 فلٹریشن پلانٹس غیرفعال ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے ۔شدید گرمی کی موجودہ صورتحال میں فلٹریشن پلانٹس کی بڑی تعداد کے غیر فعال ہونے سے شہریوں کو صاف پانی کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اورمتعدد شہری متبادل ذرائع سے پانی حاصل کرنے پر مجبور ہیں، پانی کی بڑھتی طلب کے مقابلے میں دستیاب فلٹریشن انفراسٹرکچر بھی ناکافی ثابت ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔