دوحہ : پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا، ایران بالواسطہ مذاکرات شروع : ملاقاتیں اچھی رہیں، مثبت پیش رفت ہوئی : ٹرمپ

دوحہ : پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا، ایران بالواسطہ مذاکرات شروع : ملاقاتیں اچھی رہیں، مثبت پیش رفت ہوئی : ٹرمپ

جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف تکنیکی مذاکرات کا حصہ نہیں،قطری وزیراعظم سے ملے ، ایران کے جوہری پروگرام میں کمی کا عمل درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے :امریکی صدر ناکہ بندی خاتمے کے بعد40ملین بیرل تیل برآمد کرچکے ،یورینیم افزودگی ناقابلِ تنسیخ حق:قالیباف، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا علی خامنہ ای کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان

دوحہ (نیوز ایجنسیاں )ایران اور امریکا نے بدھ کے روز دوحہ میں قطری اور پاکستانی ثالثوں کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات کا آغاز کر دیا ۔حساس مذاکرات پر گفتگو کے لیے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک سفارت کار نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ بات چیت نچلی سطح پر ہو رہی ہے جس میں مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ سفارت کار نے کہا کہ امریکی مندوبین جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف ان تکنیکی مذاکرات میں حصہ نہیں لے رہے ہیں۔ اس سے قبل منگل کے روز دونوں نے قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے ملاقات کی تھی۔قطر کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ تینوں رہنماؤں نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے ساتھ ساتھ  لبنان کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری معاملات میں پیش رفت مثبت ہوئی ہے جبکہ قطر میں ہونے والی حالیہ ملاقاتیں بھی اچھی رہیں۔ تاہم ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ آگے کیا ہوتا ہے ۔بدھ کو نارتھ ڈکوٹا روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام میں کمی کا عمل درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے ۔ایران کے چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے منگل کو ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ جب اس سطح کی جنگ ختم ہوتی ہے ... تو یہ ناگزیر ہے کہ عملدرآمد کے چیلنجز، واقعات اور نظریاتی اختلافات سامنے آئیں، خاص طور پر جہاں اسرائیلی حکومت جیسے فریقین شامل ہوں۔انہوں نے کہا کہ دوحہ میں ایرانی وفد کی توجہ معاہدے کی ان شقوں کے نفاذ پر ہوگی جن کا تعلق آبنائے ہرمز اور لبنان میں جاری لڑائی سے ہے۔

قطر میں مذاکرات سے پہلے کے دنوں میں فائرنگ کے تبادلے میں بظاہر کمی آئی ہے ۔ لبنان کے محاذ پر بھی اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی نسبتاً پرسکون رہی ہے ۔قالیباف نے یہ بھی کہا کہ ایران کے بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم ہونے کے بعد سے ایران کی تیل کی برآمدات میں تیزی آئی ہے ۔ انہوں نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا، جس دن سے ناکہ بندی ختم ہوئی ہے ، آج تک ہم 40 ملین بیرل سے زیادہ تیل برآمد کر چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، اس کے برعکس، پچھلے 50 سے تقریباً 60 دنوں کے دوران، ہم واقعی ایک بیرل تیل بھی برآمد کرنے کے قابل نہیں تھے۔ قالیباف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران اپنے جوہری حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ ان کے بقول ‘یورینیم کی افزودگی ہمارا جائز اور ناقابلِ تنسیخ حق ہے ۔’ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے اپنے ایک بیان میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے ‘خون کا بدلہ’ لینے کا اعلان کیا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں