بارشیں، ریلے : آسمانی بجلی اور چھتیں گرنے سے 8 افراد جاں بحق، 49 زخمی : مون سون کیلئے ہنگامی فنڈ کی پیشگی تیاری کی جائے : وزیراعظم

بارشیں، ریلے : آسمانی بجلی اور چھتیں گرنے سے 8 افراد جاں بحق، 49 زخمی : مون سون کیلئے ہنگامی فنڈ کی پیشگی تیاری کی جائے : وزیراعظم

اٹک میں2بھائی جاں بحق، کھیوڑہ کا نوجوان بہہ گیا، خیبر ، ژوب میں خاتون ، 4بچے چل بسے ، چترال میں مکانوں ،سڑکوں کونقصان، اسلام آباد میں درخت گر گئے ممکنہ تباہ کے پیش نظرایمرجنسی ریسپانس کمیٹی قائم ،صوبائی حکومتیں دریاؤں کی گزرگاہوں ،سیلابی راستوں سے تجاوزات ختم،دیگر رکاوٹوں کو دور کریں:شہباز شریف

اسلام آباد ، کھیوڑہ، اٹک ،پشاور، ژوب(نامہ نگار،نمائندہ دنیا، دنیا نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک) بارشوں کے باعث پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں خاتون اور بچوں سمیت  8افراد جاں بحق اور 49 زخمی ہو گئے ۔ پنجاب کے ضلع اٹک کے گاؤں بوٹا میں بارش کے باعث دیوار گرنے سے 2 بھائی جاں بحق اور تین بچے زخمی ہو گئے ، ریسکیو اہلکاروں نے ملبے سے لاشیں اور زخمی بچوں کو نکال کر ڈسٹرکٹ ہسپتال اٹک منتقل کیا۔ کھیوڑہ میں شدید بارش کے دوران 16سالہ نوجوان محمد آصف کھیوڑہ ڈنڈوت روڈ پر نالے میں موٹر سائیکل سمیت بہہ گیا ، ریسکیو1122 ٹیم اور پولیس نے نکال کر ہسپتال منتقل کیا جہاں وہ دم توڑ گیا ۔ خیبر پختونخوا کے علاقے خیبر میں بازار ذخہ خیل نیکے شان خیل میں آسمانی بجلی گرنے سے 2 بچے جاں بحق اور 4 افراد زخمی ہوگئے ۔

آسمانی بجلی زالیب گل کے گھر پر گری، جاں بحق بچوں میں عنایت ولد زالب ، مخیب ولد شاہی شامل ہیں۔ اپر دیر کے علاقے اصوڑئی درہ میں مدر سے کے قریب آسمانی بجلی گرنے سے بھگدڑ سے 28 طالبات زخمی ہوگئیں جنہیں قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ مردان میں تیز ہواؤں کے سبب سولر پینل گرنے سے 70 سالہ فقیر ناز ، تخت بھائی فلائی اوور پر سائن بورڈ گرنے سے ایک شخص ، دربو کلے میں دیوار گرنے سے 11 سالہ عبدالبصیر اور 12 سالہ حذیفہ زخمی ہو گیا۔ بلوچستان کے شہرژوب میں تیز ہواؤں کے ساتھ طوفانی بارش کے باعث نئی آبادی میں مکانات گرنے کے تین واقعات میں ایک خاتون اور 2بچے جاں بحق جبکہ 10 افراد زخمی ہو گئے ، لاشوں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں تیز بارشوں اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی، چترال کے مختلف علاقوں میں کلاؤڈ برسٹ اور موسلادھار بارشوں سے سیلابی ریلوں سے وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ، درجن سے زائد مکانات منہدم ہوئے اور متعدد گھروں کو جزوی نقصان پہنچا، مال مویشی، گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں بھی سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئیں،دو مساجد بھی شہید ہوگئیں ،سیلاب سے سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی مکئی، دھان، جوار کی فصلوں اور ناشپاتی، سیب، انگور، آڑو اور انار کے باغات کو شدید نقصان پہنچا۔ دوسری جانب گلگت بلتستان کے ضلع استور میں بھی طوفانی بارشوں کے بعد ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال ہے ۔

اسلام آباد میں تیز آندھی کے باعث جناح سپر مارکیٹ ایف-7 کی پارکنگ میں درخت دو گاڑیوں پر آ گرا تاہم جانی نقصان نہیں ہوا۔ موسلا دھار بارش کے باعث پی ڈبلیو ڈی انڈر پاس کے علاوہ نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا۔ پشاور سے پی ڈی ایم اے کے مطابق لوئر چترال میں موسلادھار بارش سے 27 مکانات متاثر ہوئے ۔ 2 دکانوں اور ایک پل کو نقصان پہنچا۔ اتھارٹی نے آئندہ ہفتے ممکنہ خطرات کے حوالے سے جاری الرٹ میں کہا کہ گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے گلیشئر سے ملحقہ علاقوں میں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے سیلاب کا خدشہ، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودوں کے خطرات میں اضافہ متوقع ہے ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پنجاب کے بعض علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے ۔ 

اسلام آباد (نامہ نگار،دنیا نیوز) وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت مون سون سیزن کی پیشگی تیاری، موسمیاتی تغیرات اور ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے اقدامات کا جائزہ  لینے کے لیے اہم اجلاس ہوا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی اور چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی رواں ہفتے تمام صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا ہنگامی دورہ کریں تاکہ مون سون سے قبل تمام حفاظتی اور انتظامی اقدامات کا جائزہ لے کر تیاریاں مکمل کی جا سکیں۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کمیٹی ہفتہ وار اجلاس منعقد کرے ،ایمرجنسی رسپانس کمیٹی میں وفاقی وزیر خزانہ مون سون میں ممکنہ تباہی کی صورت میں ہنگامی فنڈ کی تشکیل کے لیے پیشگی تیاری مکمل کریں،انہوں نے کہا کہ غیر ملکی مالی معاونت سے جاری منصوبوں کو قومی اور مقامی اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے بھی استعمال کیا جانا چاہیے ۔ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع روڈ میپ تیار کیا جائے جبکہ صوبائی حکومتیں خطرے سے دوچار اضلاع میں دریاؤں کی گزرگاہوں، سیلابی راستوں پر تجاوزات کے خاتمے اور دیگر رکاوٹوں کو پیشگی دور کریں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں