صدقے جائوں۔ ہائے۔ ماں کے بچے۔ میں نے تو پڑھنے بھیجا تھا
جنازہ اٹھتے ہی ماں ٹیوشن سینٹر کی طرف بھاگی اور دروازے پر لگے تالے کو چومنا شروع کردیا بچوں کے بستے ، کاپیاں اور دیگر سامان اب بھی ملبے تلے دبا تھا ، جسے دیکھ کرہر شخص کی ہچکی بندھ گئی ایک مخدوش عمارت میں نجی تعلیمی ادارہ چلانے کی اجازت کس نے دی؟ لو گوں کا سوال
لاہور (نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ سیل)صوبائی دارالحکومت لاہور کا علاقہ کاہنہ بدھ کے روز ماتم کدہ بن گیا، جہاں گزشتہ رات ایک نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے دلخراش واقعے میں جاں بحق ہونے والے 14 بچوں کے جنازے اٹھائے گئے ۔ تنگ گلیوں سے گزرتے ہوئے جنازوں کے اس منظر نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا، جہاں سوگواران نے نم آنکھوں کے ساتھ اپنے جگر گوشوں کی میتیں چارپائیوں پر اٹھا کر مقامی قبرستان پہنچائیں۔اس بھیانک حادثے نے ملک کے دوسرے بڑے شہر لاہور کو شدید غم و غصے کی لہر میں لپیٹ دیا ہے ۔ کچی آبادی کے باسی اپنے پیاروں کی تازہ کھدی ہوئی قبروں پر آنسو بہاتے اور ایک دوسرے کو دلاسے دیتے نظر آئے ۔ سانحے کا شکار ہونے والے بچوں کی عمریں 4 سے 12 سال کے درمیان تھیں، جن میں سے کئی خاندان ایسے ہیں جن کے ایک سے زائد بچے اس قیامت میں لقمہ اجل بن گئے ۔ 48 سالہ مقامی رہائشی آس محمد نے انتہائی غمزدہ لہجے میں کہا: پڑھائی کے دوران اچانک چھت گرنے سے ماؤں کی گود اجڑ گئی۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ وہ جانتے تھے کہ نجی ٹیوشن سینٹر کی عمارت انتہائی خستہ حال اور بوسیدہ تھی، لیکن غربت اور علاقے میں دوسرے تعلیمی وسائل نہ ہونے کے باعث وہ اپنے بچوں کو وہاں بھیجنے پر مجبور تھے ۔ حادثے میں اپنی بیٹی کھو دینے والے 30 سالہ محمد فاروق نے روتے ہوئے بتایا:"سب کو معلوم تھا کہ اس عمارت کی حالت بہت خراب ہے ، لیکن ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ ہی نہیں تھا، ہم اپنے بچوں کے اچھے مستقبل کے لیے مجبور تھے ۔" علاقے میں عورتیں دو بچوں کی میت کو ایک ہی پلنگ پر رکھے بیٹھی تھیں۔ خواتین نے بتایا کہ یہ ایک ہی گھر کے دو بچے ہیں۔ ایک کی عمر سات سال ہے اور دوسرے کی پانچ سال۔ ان کی ماں روتے ہوئے کہہ رہی تھی ‘صدقے جاؤں۔۔۔ ہائے ۔۔۔ ماں کے بچے ۔۔۔ میں نے تو پڑھنے بھیجا تھا۔’پانچ سالہ ارحم کی ماں کبھی روتی اور کبھی آسمان کی طرف انگلی اٹھا کر خاموشی سے بچے کی میت کی طرف دیکھتی رہی۔ کبھی وہ ہاتھ سے چلنے والا پنکھا لیے اپنے بچے کی میت کو ہوا دیتی۔ کچھ دیر گزری تو لوگ جنازہ اٹھانے آئے۔
اس ماں نے چارپائی کو زور سے پکڑ لیا اور چیخ چیخ کر کہتی رہی کہ ‘میرے بچے کو نہ لے کر جاؤ۔’جیسے ہی جنازہ اٹھا تو وہ ٹیوشن سینٹر کے دروازے کی طرف روتے ہوئے بھاگی اور دروازے پر لگے تالے کو چومنا شروع ہو گئی۔مقامی مسجد میں سینکڑوں سوگواران کی موجودگی میں بچوں کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ جائے وقوعہ پر بکھری ہوئی اینٹیں، مڑے ہوئے لوہے کے گارڈرز اور اکھڑا ہوا کنکریٹ خوفناک منظر کی گواہی دے رہے تھے ۔ ملبے کے ڈھیر میں بچوں کے بستے ، کاپیاں اور دیگر سامان اب بھی آدھا دبا ہوا نظر آ رہا ہے ، جسے دیکھ کر وہاں موجود ہر شخص کی ہچکی بندھ گئی۔ 53 سالہ محمد انور نے اے ایف پی' کو بتایا کہ یہ ناقابلِ تصور سانحہ ہے ۔ صرف وہ خاندان نہیں جنہوں نے اپنے بچے کھوئے ، بلکہ پورا علاقہ اس صدمے سے مفلوج ہو کر رہ گیا ہے ۔ لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ ایک مخدوش عمارت میں نجی تعلیمی ادارہ چلانے کی اجازت کس نے دی؟ مقامی لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس حادثے کو ایک 'ویک اپ کال'سمجھے اور تمام سکولوں اور تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا معائنہ کروائے ۔