لاہور: 2 غیر ملکی خواتین کو پاکستان بلا کر اغوا اور زیادتی، اہم شخصیت کے نواسے سمیت 4 ملزم گرفتار
ہالینڈ اور وینزویلا سے تعلق رکھنے والی دونوں خواتین کو ائیر پورٹ سے واپس لاکر164 کے بیانات ریکارڈ کروائے گئے ملزم رضا ڈار نے ویزوں کا انتظام کیا تھا ،ایک خاتون کے والد نے ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر اپنی بیٹی کے مبینہ اغوا کی اطلاع دی چاروں ملزموں کو آج عدالت پیش کیا جائیگا ،ایس ایچ او تھانہ ڈیفنس معطل ، معاملہ بیرون ملک کرپٹو کرنسی سے شروع ہوا :پولیس افسر
لاہور(محمد حسن رضا سے ،مانیٹرنگ سیل )غیر ملکی خواتین کو پاکستان بلا کر مبینہ اغوا اور جنسی زیادتی ، لاہور پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے حکومتی پارٹی کی انتہائی اہم سیاسی شخصیت کے نواسے محمد رضا ڈار سمیت چار ملزموں کو گرفتار کر لیا۔ دونوں خواتین کو گزشتہ روز ائیر پورٹ سے واپس لایا گیا ، جانے سے روکا گیا اور 164 کے بیانات ریکارڈ کروائے گئے ۔پولیس کے مطابق متاثرہ خواتین کا تعلق ہالینڈ اور وینزویلا سے ہے ۔ ہالینڈ میں موجود ایک خاتون کے والد نے پاکستان کی ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر اپنی بیٹی کے مبینہ اغواء کی اطلاع دی، جس پر لاہور پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دونوں خواتین کو بحفاظت بازیاب کروا لیا۔ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق اطلاع ملتے ہی پولیس نے سیف سٹیز اتھارٹی کی تکنیکی معاونت سے ملزموں کا سراغ لگا کر دونوں خواتین کو بازیاب کرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ خواتین کا طبی معائنہ کرایا جا رہا ہے اور حاصل ہونے والے شواہد کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی جاری ہے ۔
پولیس نے تھانہ ڈیفنس سی میں مقدمہ نمبر 1560/26 درج کر رکھا ہے ۔ واقعے کا مقدمہ بازیاب ہونے والی ہالینڈ کی خاتون کی مدعیت میں درج کیا گیا ملزموں نے دونوں خواتین کو مبینہ طور پر اغواء کر کے 15لاکھ امریکی ڈالر تاوان طلب کیا۔ درخواست گزار کے مطابق اغواکار‘بہت جارحانہ’ برتاؤ کر رہے تھے اور اس دوران انہیں پاکستان بُلانے والا شخص بھی متاثرہ شخص ہونے کا ڈرامہ کر رہا تھا۔ ان کی ساتھی کا متعدد بار ریپ کیا گیا اور ان کا ریپ کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔اس ایف آئی آر کا بڑا حصہ انگریزی زبان میں متاثرہ خاتون کے بیان کے مطابق لکھا گیا ہے ۔ مدعیہ کا مؤقف ہے کہ اس کی محمد رضا ڈار سے ملاقات اکتوبر 2025 میں سنگاپور میں ہوئی، جہاں اس نے پاکستان آنے کی دعوت دی اور دونوں خواتین کے ویزوں کا انتظام بھی کیا۔ 29جون کو پاکستان پہنچنے کے بعد دونوں خواتین کو مبینہ طور پر اغوا کیا، انہیں ایک مقام پر رکھا، تاوان کا مطالبہ کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ ادھر واقعے کے بعد ایس ایچ او تھانہ ڈیفنس سی فریاد اشرف کو معطل کر دیا گیا ہے ۔
پولیس کے مطابق گرفتار چاروں ملزموں کو جسمانی ریمانڈ کے حصول کے لیے آج عدالت میں پیش کیا جائے گا ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کے سفارت خانوں سے رابطہ کیا گیا ہے اور انہیں جلد ہی ان کے ممالک واپس بھیج دیا جائے گا۔ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک لڑکی کے والد نے سپین سے پولیس کی ہیلپ لائن ون فائیو پر کال کی تھی۔جب کوئی ایسی کال بیرون ملک سے آتی ہے تو اس کی اطلاع اعلیٰ افسروں اور چیف منسٹر ہاؤس کو دی جاتی ہے ۔ وزیر اعلیٰ کی کال آئی اور انہوں نے کہا دو گھنٹے کے اندر اندر یہ لڑکیاں بازیاب کروائیں اور ان ملزموں کو گرفتار کریں۔ ‘یہ خواتین اپنی مرضی سے پاکستان آئی تھیں اور اپنے کہیں بھی آنے جانے کی اطلاع اور تصاویر اپنے گھر والوں سے شیئر کر رہی تھیں۔’‘ہم نے ان لڑکیوں کے گھر والوں سے فوراً تمام تصاویر منگوائیں، جن میں اس گاڑی کی تصویر بھی شامل تھی جس پر وہ مبینہ ملزموں کے ساتھ سفر کر رہی تھیں۔ ہم نے اس گاڑی کی نمبر پلیٹ سے فوری سارا ڈیٹا نکال لیا اور اس کی ٹریسنگ شروع کر دی۔
ڈی آئی جی فیصل کامران کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ہی انہیں معلوم ہوا کہ یہ ‘گاڑی کب شاہدرہ سے گزری، کب سرگودھا پہنچی، کب اسلام آباد گئی، وہاں کہاں کہاں رکی۔’‘اس طرح ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہم لاہور کے ڈیفنس کے علاقے تک جا پہنچے ، جہاں ہم نے چھاپہ مارا اور ان لڑکیوں کو بازیاب کروایا ۔فیصل کامران کے مطابق یہ سارا معاملہ کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے وعدے سے شروع ہوا تھا۔ان کے مطابق یہ معاملہ پاکستان کے باہر سے شروع ہوا جب یہ دونوں غیر ملکی خواتین مرکزی ملزم سے سنگاپور میں کاروبار کے سلسلے میں ملیں۔ وہاں ان دونوں پارٹیوں کے درمیان کرپٹو میں سرمایہ کاری کے لیے بات چیت ہوئی۔‘مرکزی ملزم اور اس کے دوست نے ڈالرز میں لڑکیوں کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کی اور ان کے درمیان یہ طے پایا کہ اس سرمایہ کاری سے آنے والا منافع آپس میں تقسیم ہوگا، جس کے بعد یہ لڑکے پاکستان آگئے ۔
فیصل کامران کے مطابق ان خواتین نے ملزموں کو منافع کی رقم نہیں دی اور ان کے ‘فون کالز اور مسیجز کا جواب دینا بند کر دیا۔’ یہ خواتین مبینہ طور پر مزید سرمایہ کاری کے حوالے سے بات چیت کرنے پاکستان آئی تھیں اور انہیں آج تین جولائی کو پاکستان سے واپس جانا تھا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ‘دو تین دن یہ خواتین اور ملزم مختلف شہروں میں گھومتے پھرتے رہے جس میں لاہور، اسلام آباد اور مری بھی شامل ہیں۔ وہاں انہوں نے مختلف لوگوں سے ملاقاتیں کیں، کھانے وغیرہ کھائے ۔’‘ان خواتین کی واپسی تین جولائی کو تھی، اس لیے یہ لاہور واپس آگئیں۔ جیسے ہی یہ واپس لاہور پہنچیں تو ان میں سے ایک ملزم نے کہا ‘میں تو اپنے پیسے واپس لیے بغیر ان لڑکیوں کو پاکستان سے نہیں جانے دوں گا۔’‘جس کے بعد اس نے اپنے دوست کی مدد سے کرائے پر گھر لیا اور اس کے دوست نے دو غنڈے بلا کر لڑکیوں کو اغوا کروایا اور پھر ان کے باپ کو کال کرکے اغوا برائے تاوان کے لیے پیسے مانگے ۔’ فیصل کامران کے مطابق بے شک یہ لین دین کا معاملہ ہو لیکن پیسوں کی واپسی کے لئے کسی کو اغوا تو نہیں کیا جاسکتا۔