معیشت مستحکم ،زرمبادلہ ذخائر بڑھ رہے،افراط زرقابو میں:گورنر سٹیٹ بنک

معیشت  مستحکم ،زرمبادلہ  ذخائر  بڑھ  رہے،افراط  زرقابو  میں:گورنر  سٹیٹ  بنک

افراطِ زر میں مزیدکمی ،معاشی اشاریوں میں بہتری کی توقع ،تجارتی خسارے پر قابو پانا اب بھی ایک بڑا چیلنج:جمیل احمد زرعی شعبہ توقعات کے مطابق کارکردگی نہ دکھا سکا، بڑی صنعتی پیداوار میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ، میڈیا سے گفتگو

کراچی (کامرس رپورٹر) گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت گزشتہ چند برسوں کے مقابلے میں نمایاں طور پرمستحکم ہوئی ہے ، زرمبادلہ ذخائر بڑھ رہے ہیں، کرنٹ اکاؤنٹ متوازن ہے ، افراطِ زر قابو میں آچکی ہے جبکہ آئندہ مالی سال کے دوران معاشی اشاریوں میں مزید بہتری کی توقع ہے ۔ انہوں نے یہ بات میڈیا سے گفتگو اور سوال و جواب کے سیشن میں کہی۔انہوں نے مزید کہا کہ نئے مالی  سال میں میڈیا کے ساتھ رابطوں کو مزید مؤثر بنایا جائے گا،گورنر سٹیٹ بینک نے کہا اگر گزشتہ چار برس کا جائزہ لیا جائے تو 2023ء پاکستان کے لیے شدید معاشی دباؤ کا سال تھا، تاہم اس کے بعد ہر سال معاشی صورتحال میں بتدریج بہتری آئی ہے اور موجودہ میکرو اکنامک اشاریے معاشی استحکام کی عکاسی کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا تیسری سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو 4 فیصد رہی، زرعی شعبہ توقعات کے مطابق کارکردگی نہ دکھا سکا، لیکن بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور مالی سال کے کئی مہینوں میں بڑی صنعت کی نمو 10 فیصد سے بھی زیادہ رہی، جمیل احمد نے کہا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراط زر 7.05 فیصد رہی جو اسٹیٹ بینک کے 5 سے 7 فیصد کے تخمینے کے قریب ہے ۔

انہوں نے کہا مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث مہنگائی پر دباؤ رہا، تاہم آنے والے مہینوں میں افراطِ زر میں مزید کمی متوقع ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2022ء میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 17.5 ارب ڈالر، یعنی جی ڈی پی کے 4.7 فیصد کے برابر تھا، جس نے معاشی بحران کو مزید سنگین بنایا، تاہم موجودہ مالی سال کے پہلے 11 ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ 25 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سرپلس رہا، ۔ انہوں نے کہا اس عرصے میں بیرونی قرضوں کی تمام ادائیگیاں بروقت کی گئیں، جن میں تقریباً 5ارب ڈالر کی ادائیگیاں بھی شامل تھیں اگر یہ ادائیگیاں نہ کی جاتیں تو اسٹیٹ بینک کے ذخائر 23 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور بجٹ خسارہ پاکستانی معیشت کے دو بنیادی چیلنج ہیں، جمیل احمد نے کہا کہ عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی ریٹنگ بہتر کی ہے اور مزید بہتری کی بھی توقع ہے ۔ انہوں نے کہا ترسیلات بھیجنے یا وصول کرنے والوں سے کوئی اضافی فیس یا چارجز وصول نہیں کیے جائیں گے بلکہ یہ اخراجات کمرشل بینک خود برداشت کریں گے ۔ ان کے مطابق سوہنی دھرتی پروگرام کو ختم کرکے چند ہفتوں میں نئی اسکیم متعارف کرائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر پاکستان کی معیشت کی لائف لائن ہیں اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں گزشتہ چار ماہ سے مسلسل رقوم کی آمد بڑھ رہی ہے جو بیرونی کھاتوں کے استحکام میں اہم کردار ادا کر رہی ہے ،سوال وجواب کے دوران انہوں نے کہا کہ آئندہ مانیٹری پالیسی کا فیصلہ ملکی اور عالمی معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ رواں سال کے اختتام تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 20ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں