عمران، بشری کو اگر قید تنہائی میں رکھا تو کیوں؟ کتنی دیر؟ کس قانون کے تحت ؟ اسلام آباد ہائیکورٹ
کیا یہ سزا ہے ؟سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل رپورٹ جمع کرائیں انکی کیسی حالت ؟ کیا سہولیات فراہم کی جا رہیں :جسٹس خادم حسین یہ تفصیلات بھی جمع کرائیں قید تنہائی کے الزامات میں کتنی صداقت ہے ؟ :عدالت کے ریمارکس، 6 اگست تک سماعت ملتوی
اسلام آباد(اپنے نامہ نگارسے )اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی مبینہ قیدِ تنہائی سے متعلق دائر درخواستوں پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ اور جیل ریکارڈ سمیت طلب کر لیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کی مبینہ قید تنہائی کے خلاف علیمہ بی بی اور دیگر کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت کی ۔ جسٹس خادم حسین سومرو نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قید تنہائی سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل رپورٹ اور جیل ریکارڈ دیں کہ اگر قیدی تنہائی میں رکھا گیا تو کیوں رکھا گیا ؟، کس قانون کے تحت ؟ کتنی دیر کیلئے ؟ اور کیا یہ سزا ہے ؟۔
فاضل جج نے مزید کہا کہ درخواستیں قابل سماعت ہیں یا نہیں ؟ رپورٹس آنے کے بعد عدالت طے کرے گی، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل رپورٹ جمع کرائیں کہ بانی پی ٹی آئی اور بشری ٰبی بی کی جیل میں کیسی حالت ہے ؟، دونوں کو کیا سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں،یہ تفصیلات بھی جمع کرائیں کہ قید تنہائی کے الزامات میں کتنی صداقت ہے ؟ تفصیلات جمع کرائیں،قابل سماعت ہونا اور کیس کے میرٹ رپورٹس سامنے آنے کے بعد فیصلہ ہو گا،قید تنہائی سے متعلق تفصیلی رپورٹ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل جمع کروائیں،کس قانون کے تحت کتنے عرصے کیلئے کن حالات میں قید تنہائی میں رکھا گیا رپورٹ دیں،جیل ریکارڈ ، رجسٹر ریکارڈ اور متعلقہ دستاویزات دو قیدیوں کے حوالے سے ساتھ لیکر آئندہ سماعت پر آئیں۔عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ آئی جی جیل خانہ جات سپرنٹنڈنٹ جیل لیول کا افسر آئندہ سماعت پر عدالت پیش کریں،ایسا افسر جس کو کیس کے حالات و واقعات متعلق آگاہی ہو،عدالت نے 6 اگست کیلئے تمام فریقین سے رپورٹس طلب کر لیں۔