پاسکو سکینڈل حکومتی ناکامی ،تحقیقات نا گزیر ،پی ٹی آ ئی کسان ونگ
پاسکو سے متعلق آڈٹ رپورٹ میں انکشافات پر تحریک انصاف کے شدید تحفظات
راولپنڈی(نیوزرپورٹر)تحریک انصاف کے مرکزی و صوبائی کسان ونگز نے پاسکو سے متعلق حالیہ آڈٹ رپورٹ میں کیے گئے انکشافات پرشدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے رپورٹ کو ملکی غذائی تحفظ، زرعی معیشت اور قومی خزانے کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا اور کہا ہے کہ یہ محض ایک ادارے کی ناکامی نہیں بلکہ وفاقی حکومت کی گندم پالیسی کی مکمل ناکامی کا ثبوت ہے۔ پی ٹی آ ئی کسان ونگ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات خالد نواز سدھرائچ نے کہا پاسکو کو ایک سال میں 20 ارب روپے سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا جبکہ گزشتہ چند برسوں میں مجموعی خسارہ 21 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے ، مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ 257 ارب روپے سے زائد کی رقم مختلف سرکاری اداروں سے تاحال وصول نہیں کی جا سکی۔ گندم کی خوردبرد ، باردانہ کی غیر شفاف تقسیم، غیر قانونی خریداریوں اور انتظامی بے ضابطگیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ حکومتی ادارے بدانتظامی اور کرپشن کا گڑھ بن چکے ہیں ۔انہوں نے حکومت سے سوال کیاکہ پاسکو کے ملکیتی گودام کسانوں کا استحصال کرنے والے افراد یا اداروں کے حوالے کیوں کیے گئے ۔ پی ٹی آئی کسان ونگز اور کسان کمیونٹی کا مشترکہ مطالبہ ہے کہ پاسکو آڈٹ میں سامنے آنے والی تمام بے ضابطگیوں، مالی بدعنوانیوں کی آزاد انہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔