جرگہ سے وارث کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا :سپریم کورٹ

جرگہ سے وارث کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا :سپریم کورٹ

خواتین کو وراثت سے محروم کرنیوالی رسم و رواج کی قانونی حیثیت نہیں:فیصلہ محتسب انسدادِ ہراسانی چیئرمین کو قانون کا علم نہ ہو تو متاثرین کو ریلیف کیسے ملے گا

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بیٹیوں کو وراثت سے محروم کرنا اسلامی شریعت اور ملکی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے ، جعلی انتقالات یا قبائلی  جرگے کے فیصلوں کے ذریعے کسی وارث کا قانونی حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔ تحریری تفصیلی فیصلہ میں جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مٹھی خان کی وراثتی زمین کے تنازع پر بلوچستان ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا کہ فراڈ یا جعل سازی سے حاصل جائیداد پر کسی کا قانونی حق قائم نہیں ہو سکتا۔ خواتین کو وراثت سے محروم کرنے والی قبائلی روایات، جرگوں کے فیصلے اور دیگر غیر قانونی رسم و رواج اسلامی شریعت اور ملکی قوانین کے منافی ہیں۔

ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ دریں اثنا وفاقی محتسب انسدادِ ہراسانی کی جانب سے دائر اپیل سماعت کے دوران واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی۔جسٹس شاہد وحید اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔ جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیئے کہ اپیل میں لکھا گیا ہے کہ چیئرمین کو قانون کا علم نہیں اس حوالے سے بیانِ حلفی موجود ہے ، قانونی علم کے بغیر اپیل کیسے دائر کی گئی۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ وفاقی محتسب انسدادِ ہراسانی چیئرمین کے پاس شہری انصاف کے حصول کیلئے آتے ہیں اگر انہیں قانون کا علم نہ ہو تو متاثرین کو مؤثر ریلیف کیسے ملے گا۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں