صوبہ سندھ میں آبپاشی کا ایک اور سنگین بحران جنم لینے لگا
پنگریو(نمائندہ دنیا)سندھ کا زرعی مستقبل پھر خطرے میں پڑ گیا، دریائے سندھ میں پانی موجود، ڈیم بھر رہے ہیں مگر تینوں بیراج خشک ہونے لگے، رائس بیلٹ میں کروڑوں روپے کی فصلیں تباہی کے دہانے پر پہنچ گئیں۔
رپورٹ کے مطابق ایک طرف دریائے سندھ کے بالائی حصوں میں پانی کا بہاؤ برقرار ہے اور تربیلا و منگلا ڈیموں میں تیزی سے پانی ذخیرہ کیا جا رہا ہے ، دوسری جانب گزشتہ 5 روز کے دوران گڈو، سکھر اور کوٹری بیراج پر پانی کی آمد میں مسلسل کمی نے سندھ کے لاکھوں آبادگاروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے ۔ محکمہ آبپاشی کے روزانہ جاری ہونے والے آبی اعدادوشمار بھی بیراجوں پر پانی کی صورتحال میں تبدیلی کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
پانی کی نئی قلت کا سب سے زیادہ اثر سندھ کے رائس بیلٹ پر پڑ رہا ہے ، جہاں، ٹنڈو باگو، پنگریو، ماتلی، ٹھٹھہ، سجاول، میرپورخاص، سانگھڑ، عمرکوٹ اور دیگر علاقوں میں دھان کی کاشت اپنے انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے ۔ صرف تین ہفتے قبل بھی انہی علاقوں میں نہروں کا پانی تقریباً ختم ہو گیا تھا، جس کے باعث ہزاروں ایکڑ پر تیار کی گئی دھان کی نرسریاں سوکھ گئیں اور آبادگاروں کو کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ بعد ازاں پانی کی فراہمی بہتر ہونے پر کسانوں نے دوبارہ ٹرانسپلانٹیشن شروع کی، تاہم اب ایک مرتبہ پھر پانی کی شدید قلت نے نئی سرمایہ کاری کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔