غیر ملکی خواتین کیس:4ملزموں کے جسمانی ریمانڈمیں توسیع

غیر ملکی خواتین کیس:4ملزموں کے جسمانی ریمانڈمیں توسیع

عدالت نے تمام ملزموں کے چہروں سے ماسک ہٹوا کر ان کی حاضری لگوائی ملزم حسن رضا کی عدالت میں والد سے ملاقات،رضاڈارسے کوئی ملانہ گفتگوکی

لاہور (کورٹ رپورٹر) لاہور کی مقامی عدالت نے دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور زیادتی کے مقدمے میں گرفتار رضا ڈار سمیت چار ملزموں کے جسمانی ریمانڈ میں مزید پانچ روز کی توسیع کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تفتیشی رپورٹ طلب کر لی۔جوڈیشل مجسٹریٹ اظہر محمود نے مقدمے کی سماعت کی۔ پولیس نے جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر ملزموں رضا ڈار، سکندر خان، ساجد علی اور حسن رضا کو عدالت میں پیش کیا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ اب تک تفتیش میں کیا پیش رفت ہوئی ہے ،سرکاری وکیل میاں ساجد نے عدالت کو بتایا کہ ملزموں کا ڈی این اے ٹیسٹ اور میڈیکل مکمل کر لیا گیا ہے ، تاہم لیپ ٹاپ، اسلحہ اور گاڑی کی برآمدگی کے لیے مزید جسمانی ریمانڈ درکار ہے ۔دورانِ سماعت ملزموں سکندر خان اور ساجد علی کی جانب سے وکیل سلمان شاہد پیش ہوئے ۔

انہوں نے مو قف اختیار کیا کہ ساجد سکیورٹی گارڈ ہے اور غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہے ، جبکہ سکندر خان کا ذاتی کاروبار ہے ۔ وکیل کے مطابق دونوں ملزم مقدمے میں نامزد نہیں تھے بلکہ انہیں ضمنی بیان کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اصل ملزموں کو بچانے کیلئے بے گناہ افراد کو مقدمے میں ملوث کیا جا رہا ہے ، جبکہ مبینہ مرکزی ملزم کو تاحال کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔سماعت کے دوران عدالت نے تمام ملزموں کے چہروں سے ماسک ہٹوا کر ان کی حاضری لگوائی، جس کے بعد تفتیش مکمل کرنے کے لیے چاروں ملزموں کو مزید پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔سماعت کے دوران کمرۂ عدالت میں ملزم حسن رضا سے ان کے والد نے ملاقات کی۔ غیر رسمی گفتگو میں ملزم نے اپنے والد کو ہدایت کی کہ فی الحال وکیل نہ کیا جائے کیونکہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی جا چکی ہے اور انہیں اس کے سامنے پیش ہونا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میڈیا سے بھی کوئی بات نہ کی جائے ۔ دوسری جانب ملزم رضا ڈار سے ملاقات کیلئے کوئی نہیں آیا اور نہ ہی انہوں نے کسی سے گفتگو کی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں