خیبرپختونخوا :منظور استحقاق ترمیمی ایکٹ واپس لیا جائے :ن لیگ
مراعاتی قانون مضحکہ خیز،وی آئی پی کلچر کو فروغ ، ارکان کو سیاسی رشوت دی گئی ،طلال آزادیٔ صحافت پر حملہ، یہ میڈیا اداروں کو کوریج سے روکنے کی کوشش ہے ، اختیار ولی
اسلام آباد ، پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک ، ایجنسیاں )وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری اور مسلم لیگ (ن)خیبرپختونخوا کے صدر اختیار ولی نے خیبر پختونخوا اسمبلی سے منظور ہونیوالے استحقاق ترمیمی ایکٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے متناز عہ ، غیر جمہوری اور آزادیٔ صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے فوری واپس لینے کا مطالبہ کردیا ، طلال چودھری نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کا مراعاتی بل مضحکہ خیز ہے اور پی ٹی آئی نے اپنے ارکان کو سیاسی رشوت دینے کے لئے یہ قانون سازی کی ،انہوں نے کہا کہ وی آئی پی کلچر کے خاتمے کے دعوے کرنے والوں نے اپنے لئے غیر معمولی مراعات منظور کر لیں ، جن میں ارکان اور ان کی اہلیہ کے لئے تاحیات بلیو پاسپورٹ، ٹول ٹیکس سے استثنٰی ، سرکاری ریسٹ ہاؤسز میں مفت قیام اور ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس سمیت مختلف سہولتیں شامل ہیں ،ماضی میں کسی اسمبلی نے ایسی قانون سازی نہیں کی ، پی ٹی آئی کی عملی سیاست اس کے نعروں کے برعکس ہے۔
دوسری جانب پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کے صدر اختیار ولی نے استحقاق ترمیمی ایکٹ کو آزادیٔ صحافت، عوام کے حقِ معلومات اور جمہوری اقدار پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے ذریعے اسمبلی کی کارروائی کی رپورٹنگ کو حکومتی اجازت سے مشروط کرنے اور صحافیوں و میڈیا اداروں کو کوریج سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متنازعہ قانون فوری طور پر واپس لیا جائے ۔اختیار ولی نے صوبائی حکومت پر تعلیم، صحت، امن و امان اور گورننس میں ناکامی کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کی جامعات مالی و انتظامی بحران کا شکار ہیں، صحت کی سہولتیں ابتر ہیں، دہشت گردی، غیر قانونی کان کنی، منشیات، کرپشن اور ترقیاتی فنڈز میں بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات سامنے آ رہے ہیں، جن کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔