پختونخوامیں مراعات بل عدالت میں چیلنج کرنا چاہیے : عظمیٰ
اتنی مراعات تو مغلِ اعظم کو بھی حاصل نہ تھیں جتنی ایم پی ایز کو دی گئیں صحافیوں کے اسمبلی داخلے کو حکومتی پسند و ناپسند سے مشروط کرنا آزادیِ صحافت پر حملہ
لاہور(نیوزایجنسیاں ) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے خیبرپختونخوا اسمبلی سے اراکینِ اسمبلی کی مراعات سے متعلق منظور کیے گئے بل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بل رات کی تاریکی میں منظور کیا گیا اور عوام سے اس کی حقیقت چھپانے کی کوشش کی گئی۔ گزشتہ روز تک تحریک انصاف کے ترجمان اس بل کے وجود سے ہی انکار کرتے رہے ، لیکن اب حقیقت سب کے سامنے آ چکی ہے ۔ مراعات بل کو عدالت میں چیلنج کرناچاہئے ۔ خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان یہ تاثر دیتے رہے کہ بلیو پاسپورٹ کی سہولت تمام صوبوں کے اراکین اسمبلی کو حاصل ہے ، حالانکہ یہ سراسر غلط بیانی ہے ۔
پنجاب میں اراکینِ اسمبلی کو صرف اپنی مدتِ رکنیت کے دوران محدود نوعیت کا سرکاری پاسپورٹ دیا جاتا ہے ، جو صرف متعلقہ رکن کے لیے ہوتا ہے ، اس کی فیملی اس سہولت کی حقدار نہیں ہوتی۔ ٹول ٹیکس سے استثنا، سرکاری ریسٹ ہاؤسز میں اہلِ خانہ سمیت عیاشی، بلیو پاسپورٹس اور دیگر غیر ضروری مراعات عوام کے ٹیکس کے پیسے پر عیاشی کے مترادف ہیں۔ ماضی میں بلیو پاسپورٹ کے غلط استعمال کی مثالیں بھی سب کے سامنے موجود ہیں۔وزیر اطلاعات نے صحافیوں سے متعلق شق پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسمبلی میں صرف پسندیدہ صحافیوں کو داخلے کی اجازت دی جائے اور ناپسندیدہ صحافیوں پر پابندی لگائی جائے تو یہ آزادیِ صحافت پر سنگین حملہ ہوگا۔
خیبرپختونخوا میں اراکین اسمبلی کیلئے آٹھ کلاشنکوفوں کے لائسنس مانگے جا رہے ہیں۔ کیا یہ ڈی چوک پر دھاوا بولنے یا کور کمانڈر ہاؤس جیسے حساس مقامات پر حملوں کے لیے ہیں؟ ایسے وقت میں جب خیبرپختونخوا پہلے ہی بدامنی اور دہشت گردی کا شکار ہے ، حکومت کی ترجیح امن قائم کرنا ہونی چاہیے ، نہ کہ اسلحہ کلچر کو فروغ دینا۔ اس بل کی سب سے خطرناک شق وہ ہے جس کے تحت اراکین اسمبلی کو گرفتاری، ایف آئی آر اور قانونی کارروائی سے استثنا دینے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اگر کوئی قانون ساز قانون شکنی کرے ، جیل توڑے ، سرکاری املاک کو نقصان پہنچائے یا کسی حساس تنصیب پر حملہ کرے تو کیا اسے بھی قانون سے بالاتر سمجھا جائے گا؟ ایسی مراعات تو شاید مغلِ اعظم نے بھی اپنے لیے نہیں مانگی تھیں۔ پاکستان کا آئین اس نوعیت کا استثنا صرف صدرِ مملکت کے لیے مخصوص کرتا ہے ، وہ بھی آئینی حدود کے اندر۔ کسی صوبے کے اراکین اسمبلی کو قانون سے بالاتر قرار دینا آئین اور جمہوری اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے ، اس لیے اس قانون کو عدالت میں چیلنج کیا جانا چاہیے ۔