مسلسل عدالتی تربیت موثر نظام انصاف کیلئے ناگزیر :چیف جسٹس

مسلسل عدالتی تربیت موثر نظام انصاف کیلئے ناگزیر :چیف جسٹس

عدلیہ کا اصلاحاتی ایجنڈا جدید ٹیکنالوجی پر مبنی، شفاف نظام انصاف کی فراہمی پر مرکوز یحییٰ آفریدی سے فیلوشپ پروگرام کے شرکا کی ملاقات، سوالوں کے جوابات دیئے

اسلام آباد (اے پی پی) چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ مسلسل عدالتی تربیت، بین الصوبائی تعاون اور بہترین عدالتی روایات کا تبادلہ ملک میں انصاف کا نظام مزید موثر، شفاف اور قابل اعتماد بنانے کے لیے ناگزیر ہے ، عدلیہ کا اصلاحاتی ایجنڈا شہریوں کو جدید ٹیکنالوجی پر مبنی، شفاف اور موثر نظام انصاف کی فراہمی پر مرکوز ہے ۔ سپریم کورٹ کے جاری اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس پاکستان سے جوڈیشل فیلوشپ پروگرام کے شرکا نے ملاقات کی۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے پروگرام عدالتی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیتے ، بہترین عدالتی طریقہ کار کے تبادلے کا موقع فراہم کرتے اور جوڈیشل افسروں کی پیشہ ورانہ استعداد مزید مضبوط بناتے ہیں۔ چیف جسٹس نے شرکا کو عدلیہ کے جاری اصلاحاتی پروگرام سے آگاہ کیا اور کہا کہ قومی جوڈیشل (پالیسی میکنگ) کمیٹی کے تحت ملک بھر کی ضلعی عدالتوں میں ایکسیس ٹو جسٹس ڈویلپمنٹ فنڈ کے ذریعے سولر انرجی سسٹمز، ای لائبریریاں، قابل اعتماد انٹرنیٹ، صاف پینے کے پانی کی سہولت اور خواتین سائلین کے لیے محفوظ مقامات فراہم کیے جا رہے ہیں، منصوبوں کی تکمیل اگست تک متوقع ہے ۔ ملاقات کے اختتام پر چیف جسٹس نے جوڈیشل افسروں کے سوالات کے جواب دیئے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں