امریکا اور ایران میں دوبارہ مذاکرات کیلئے پاکستان، قطر کی کوششیں : ایرانی وزیر خارجہ کا فیلڈ مارشل سے ٹیلی فون پر رابطہ

امریکا اور ایران میں دوبارہ مذاکرات کیلئے پاکستان، قطر کی کوششیں : ایرانی وزیر خارجہ کا فیلڈ مارشل سے ٹیلی فون پر رابطہ

امریکی کارروائیوں کے جواب میں ایران نے کویت ،بحرین ،اردن میں امریکی اڈوں پر ڈرون اور میزائل داغ دئیے ،بغدادمیں امریکی وکٹری بیس پر بھی دھماکوں کی اطلاع 2روز میں 14 ایرانی شہید، رات گئے کئی شہروں میں پھر دھماکے شروع،تہران نے رابطہ کیا وہ معاہدے کا شدید خواہشمند:ٹرمپ، ہرمز بند کی تو جوابی کارروائی ہو گی :وینس

تہران،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)ایران اور امریکا کے درمیان شدید جھڑپوں کے بعد پاکستان اور قطر نے دوبارہ مذاکرات کیلئے کوششیں شروع کردیں ، ترک میڈیا کے مطابق ثالثی کے عمل کے قریبی پاکستانی حکومت کے ذرائع نے بتایا کہ پاکستان اور قطر نے امریکا اور ایران کو جنگ روک کر مذاکرات کی طرف واپس آنے کے لیے تازہ رابطے کیے ہیں،پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ اس وقت جو ہو رہا ہے اس کی توقع نہیں تھی تاہم دونوں فریق کے درمیان مسائل پیچیدہ اور انتہائی گھمبیر ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ پاکستان پراعتماد ہے کہ اس وقت جاری صورت حال مکمل جنگ کی صورت میں تبدیل نہیں ہوگی، دونوں فریق مکمل طور پر سمجھتے ہیں کہ مکمل جنگ ان کے مفاد میں نہیں ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ دونوں اطراف کے مسائل کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے مستقبل میں مزید جھڑپیں خارج از امکان قرار نہیں دی جاسکتی ہیں۔تازہ جھڑپوں سے قبل امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کو ہفتے یا دو ہفتے میں ٹیکنیکل مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں ملنا تھا لیکن اب صورت حال مختلف ہے ۔اس وقت ثالثوں کی اولین ترجیح دونوں فریقین کے درمیان کشیدگی روکنا ہے اور اسلام آباد کو جلد ہی مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی کی توقع ہے ۔ذرائع نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ لبنان میں اسرائیلی حملے جہاں اسرائیلی فوج نے کارروائیاں جاری رکھی ہوئی تھیں، کا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد نہ ہونے میں دخل تھا۔

ایران بضد تھا کہ وہ جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد اور جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد آبنائے ہرمز بحال کرے گا جبکہ واشنگٹن کا مو قف اس کے برعکس تھا کہ جو مسائل پہلے ہی حل ہوچکے ہیں انہیں حل طلب معاملات سے منسلک نہیں کرنا چاہیے ۔ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے امریکی حملو ں کی مذمت کی اور اسے دونوں ملکوں کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیا۔ایرانی میڈیا کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں عباس عراقچی نے امریکی فوج کی کسی بھی مہم جوئی کے خلاف خبردار کرتے ہوئے ملکی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے ایرانی قوم اور اس کی مسلح افواج کے غیر متزلزل عزم اور ارادے پر زور دیا۔

دوسری جانب عباس عراقچی نے ترکیہ اور عمان میں اپنے ہم منصبوں سے بات چیت کی، جس میں تمام فریقوں نے امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے حوالے سے سفارت کاری پر زور دیا ہے ۔عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ترکیہ اور عمان کے وزرائے خارجہ نے علاقائی مسائل کے حل اور کشیدگی میں اضافے کو روکنے کے لیے ‘مل کر کام کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ادھر ایرانی اور قطری وزرائے خارجہ نے علاقائی کشیدگی بڑھنے سے روکنے کیلئے سفارتکاری پر زور دیا ہے ۔ رات گئے ایران کے مختلف شہروں میں پھر دھماکے شروع ہوگئے ، ایرانی میڈیا کے مطابق ساحلی شہر کونارک میں 3 ،بوشہر اور چوغادک میں 6 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ شہر بندرعباس میں بھی دھماکے سنے گئے ۔اس سے قبل امریکا نے جمعرات کی صبح ایران کے مختلف علاقوں پر شدیدحملے کئے تھے ۔

ایرانی وزارتِ صحت کے ترجمان حسین کرمانپور نے کہاہے کہ ایران پر 8 اور 9 جولائی کو ہونے والے امریکی حملوں میں 14 افراد شہید جبکہ 78 زخمی ہوئے ،جنگ بندی کے باوجود امریکا نے 2 روز کے دوران 5 صوبوں کو حملوں کا نشانہ بنایا۔چین ایران ریلوے کوریڈور کا ایک اہم ریلوے پل بھی امریکی حملے کانشانہ بن گیا،شمالی ایران کے شہر آق قلعہ میں واقع ایک ریلوے پل کو نقصان پہنچنے کی ویڈیو جاری کردی گئی،صوبہ گلستان کا آغ تَکّہ خان ریلوے پل بحیرۂ کیسپیئن کے مشرق میں تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ، یہ ریلوے راستہ ترکمانستان اور قازقستان کے ذریعے چین کو ایران سے ملاتا ہے ، جبکہ روس 2025 کے آخر سے اس روٹ کو ایران کے لیے کارگو ترسیل کے لیے استعمال کر رہا تھا۔

تصاویر میں پل پر ایک بڑا شگاف اور گڑھا دیکھا جا سکتا ہے ، جبکہ ریلوے ٹریک کو بھی نقصان پہنچا ہے اور ملبہ اطراف میں بکھرا ہوا نظر آتا ہے ،پاسداران انقلاب کے مطابق پل کو ایک امریکی کروز میزائل سے نشانہ بنایا گیا، تاہم اس حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔واقعہ کے بعد تہران اور مشہد کے درمیان ٹرین سروس معطل ہو گئی۔ایران نے مشہد جانے والے 2 پلوں پر حملوں کو شہیدعلی خامنہ ای کے جلوسِ جنازہ کو متاثر کرنے کی کوشش قرار دیا۔ایران کے جنوب مشرقی شہر چابہار کی ایک اہم بندرگاہ کے کنٹرول ٹاور کو بھی شدید نقصان پہنچنے کی تصدیق ہوئی ہے ۔ ویڈیو شہید بہشتی بندرگاہ کے کنٹرول ٹاور میں شدید نقصان دکھاتی ہیں، جبکہ چھت کا ایک بڑا حصہ جزوی طور پر منہدم نظر آتا ہے ۔بوشہر کے مقامی باشندوں نے بھی شہر میں دو دھماکوں کی اطلاع دی۔

بندر عباس، کنارک، ایرانشہر پر بھی حملے ہوئے جب کہ شہر اہواز پر حملے میں 3 افراد شہید اور متعدد زخمی ہو گئے ،ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ صوبہ خوزستان میں امریکی حملوں کے نتیجے میں ان کے 3 اہلکار شہید ہوئے ہیں۔ایران کے جنوبی علاقوں پر امریکا کے رات بھر جاری رہنے والے حملوں کے جواب میں ایران نے کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا،،اسلامی پاسدارانِ انقلاب نے میزائل حملے کرتے ہوئے کویت میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا ،جن میں کیمپ عریفجان، علی السالم بھی شامل ہیں،کویتی وزارت دفاع کے مطابق حملوں میں کم از کم ایک شخص زخمی ہوا ہے جبکہ چار میزائل اور 10 ڈرونز کو کامیابی سے روک کر تباہ کر دیا گیا ہے ۔پاسداران انقلاب کے مطابق ایران نے اردن کے الازرق فوجی اڈے پر 10 بیلسٹک میزائل داغے ہیں،اردن کے حکام کاکہنا ہے آٹھ میزائل مار گرائے گئے ہیں،کچھ میزائلوں کا ملبہ زمین پر گرا، تاہم کسی جانی نقصان یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

اس فوجی اڈے پر امریکی فضائیہ کی 332 ویں ایئر ایکسپیڈیشنری وِنگ تعینات ہے ۔بغداد، عراق میں واقع امریکی وکٹری بیس پر بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ادھر آبنائے ہرمز میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے ، پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایرانی افواج نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول قائم کر لیا ہے ،بیان میں کہا گیا کہ اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والی بحری ٹریفک جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً 50 فیصد تک پہنچ چکی ہے ، اور ایران سے اجازت حاصل کرنے والے جہازوں کی آمدورفت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ،بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم ایک بار پھر اعلان کرتے ہیں کہ غیر ملکی طاقتوں کا اس سرزمین یا آبنائے ہرمز پر کوئی حق نہیں،کسی بھی قسم کی مداخلت کا منہ توڑ اور سخت جواب دیا جائے گا۔

بی بی سی کے مطابق 8 جولائی کو 23 تجارتی مال بردار جہازوں اور آئل ٹینکروں نے اس آبی راستے کو عبور کیا ہے ۔ 28 فروری کو تنازع شروع ہونے سے پہلے اس آبنائے سے اوسطاً 138 جہاز روزانہ گزرا کرتے تھے ۔ایرانی وزارت خارجہ نے امریکا پر جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے جمعرات کی صبح ملک کے جنوبی صوبوں میں کئی مقامات اور مشرقی صوبوں میں ریلوے روٹ کے دو پلوں پر امریکی حملوں کو جنگی جرم قرار دیا ہے ۔ایران کی وزارت خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس سخت اور توہین آمیز بیان کی بھی مذمت کی، جس میں انھوں نے بدھ کو ایران کے رہنماؤں کو بدتمیز اور بیمار قرار دیا تھا۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ٹرمپ نے ایران کے خلاف توہین آمیز گفتگو کی، ٹرمپ کے توہین آمیز بیان کا جواب توہین سے نہیں دیں گے ،ایران ہرقیمت پر اپنے حقوق کا بھرپور دفاع کرے گا۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے کے بیانات یورپی ممالک کی امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں دانستہ شمولیت کا اعتراف ہیں،جن ممالک نے اپنی سر زمین، فوجی اڈے اور تنصیبات استعمال کرنے کی اجازت دی، وہ اس بلااشتعال جارحیت اور اس کے نتائج کی ذمے داری سے نہیں بچ سکتے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے کچھ دیر پہلے رابطہ کیا تھا، وہ معاہدہ کرنے کے بہت زیادہ خواہش مند ہیں،صدارتی جہاز ایئرفورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے مزید کہا کہ میں نہیں جانتا کہ ان کے ساتھ معاہدہ کرنا واقعی فائدہ مند ہو گا یا نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ میں نہیں جانتا کہ آیا وہ معاہدے کا احترام کریں گے یا نہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا امریکا ایران کے ساتھ ایک مکمل فوجی تنازع کی طرف واپس جا رہا ہے ، تو انہوں نے کہا کہ میں نہیں جانتا۔ لیکن ہم بہت جلد جیت جائیں گے۔ ٹرمپ نے یہ دعویٰ دہرایا کہ امریکا ایران کے ساتھ جنگ میں فوجی اعتبار سے کامیاب ہو چکا ہے اور ایران کے پاس زیادہ کچھ باقی نہیں رہا ،انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی وہ ہم پر حملہ کریں گے ، ہم انہیں 20 گنا زیادہ طاقت اور شدت سے جواب دیں گے ۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ میں ایران کی ٹارگٹ کلنگ کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہوں،انہوں نے کہا مجھے ٹک ٹاک پر پہلے نمبر پر ہونا زیادہ پسند ہے ، لیکن ٹارگٹ کلنگ کی فہرست میں بھی میرا نام سرِفہرست ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ترکیہ میں ہونے والی نیٹو سربراہ کانفرنس سے واپسی کے دوران برطانیہ کے ملڈن ہال ایئر بیس پہنچے جہاں امریکی فوجی اہلکاروں سے ملاقات کی ۔امریکی نائب صدر وینس نے دھمکی دی کہ ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوشش کی تو اسے امریکی فوج کی جانب سے جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا، امریکی حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ایرانی ہرمز نہیں کھولتے اور جہازوں پر فائرنگ بند نہیں کرتے ۔ بنیادی معاہدہ یہ تھا کہ اگر ایران جہازوں پر فائرنگ کرے گا تو امریکا بھرپور جوابی کارروائی کرے گا۔ ایران معاہدے کی پاسداری کرے یا پھر وہی کچھ بھگتے جو گزشتہ رات ہوا۔ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ آبنائے ہرمز امریکی دھمکیوں سے نہیں کھلے گی،آبی گزرگاہ ایرانی انتظامات، خودمختاری کے تحت کھولی جائے گی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں