پاکستان اور کروشیا کا تجارت، تعلیم سمیت کئی شعبوں میں تعاون پر اتفاق

پاکستان اور کروشیا کا تجارت، تعلیم سمیت کئی شعبوں میں تعاون پر اتفاق

اسحاق ڈار اور کروشین ہم منصب ڈاکٹر گورڈن گرلیچ راڈمان کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ،مشترکہ اعلامیہ جاری افغان سرزمین دوسرے ملک خصوصاً پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہونی چاہئے :دونوں رہنماؤں کی مشترکہ پریس کانفرنس

 اسلام آباد (وقائع نگار، سٹاف رپورٹر ، نامہ نگار ، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)پاکستان اور کروشیا نے تجارت، سرمایہ کاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت، تعلیم، ثقافت، موسمیاتی تبدیلی، انفراسٹرکچر، بندرگاہوں کے روابط، دفاع اور ہنر مند افرادی قوت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے جبکہ سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کیلئے ویزا استثنیٰ کے معاہدے اور سفارتی تربیتی اداروں کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر جلد دستخط کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے ۔یہ اتفاق رائے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور پاکستان کے دورے پر آئے کروشیا کے وزیر خارجہ ڈاکٹر گورڈن گرلیچ راڈمان کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد جاری مشترکہ اعلا میہ میں سامنے آیا۔ یہ کسی بھی کروشیائی وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ ہے ، جسے دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات میں نئی پیش رفت قرار دیا۔

دونوں ممالک نے سیاسی مشاورت کے عمل کو فعال بنانے ، تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے ، کاروباری روابط کے فروغ ،آئی ٹی، زراعت، ڈیجیٹل سروسز، بحری تعاون اور لاجسٹکس کے شعبوں میں نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔ آئندہ چند ماہ میں پاکستان میں کروشیا کے ویزا پراسیسنگ سینٹر کے قیام پر بھی پیش رفت ہوگی، جس سے عوامی روابط اور سیاحت کو فروغ ملے گا۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ بھارت کو سندھ طاس معاہدہ فوری طور پر بحال کرنا چاہئے کیونکہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ایک دیرینہ تنازع ہے اور اس کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چا ہئے ۔دونوں ممالک نے افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک، خصوصاً پاکستان، کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہئے ۔

غزہ، یوکرین اور دیگر علاقائی تنازعات کے حوالے سے بھی فریقین نے مذاکرات، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن حل کی حمایت کی۔اسحاق ڈار کا کہناتھاکہ افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیمیں پاکستان کی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ ہیں۔کروشیا نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی پیش رفت کو سراہتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان اور کروشیا کے دوستانہ تعلقات آئندہ برسوں میں مزید مستحکم ہوں گے اور باہمی خوشحالی کا ذریعہ بنیں گے ۔ دریں اثنا کروشیا کے وزیر خارجہ و یورپی امور ڈاکٹر گورڈن گرلیچ راڈمان نے قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی سے ایوانِ صدر میں ملاقات کی۔

جاری بیان کے مطابق قائم مقام صدر نے کہا کہ کروشیا کے وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا دورہ دوطرفہ تعلقات میں تاریخی سنگ میل ہے ، گزشتہ تین دہائیوں کے دوران کروشیا کی نمایاں ترقی کو سراہتے ہوئے یورپی یونین اور نیٹو کے رکن کی حیثیت سے یورپ اور اس سے باہر اس کے اہم کردار کی تعریف کی، کروشیا کے وزیر خارجہ نے قائم مقام صدر کی جانب پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کیلئے کروشیا کے عزم کا اعادہ کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ بہتر سیاسی مکالمہ، پارلیمانی تبادلے اور اقتصادی تعاون دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کو مزید گہرا کریں گے ، مزید برآں جمہوریہ کروشیا کے وزیر برائے خارجہ ڈاکٹر گورڈن گرلیچ راڈمان نے وزیراعظم سے بھی ملاقات کی ۔

ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کروشیا کے وزیر خارجہ وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کروشیا کے درمیان دوستانہ تعلقات باہمی احترام، خیرسگالی اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔ وزیراعظم نے تجارت ،سرمایہ کاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی، روابط، زراعت، سیاحت اور ہنرمند افرادی قوت سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کی پاکستان کی خواہش کا اظہار کیا ، کروشیا کے وزیر خارجہ نے پرتپاک استقبال پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کا دورہ ان کے لئے باعثِ اعزاز ہے ،انہوں نے علاقائی امن کی کوششوں میں پاکستان اور اس کی قیادت کے نمایاں کردار کو سراہا ،باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں پاکستان اور کروشیا کے تعلقات کو مزید وسعت دینے کی اپنی حکومت کی خواہش کا اظہار کیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں