لاہور ہائیکورٹ : آئی جی پنجاب کو تاخیر کا شکار مقدمات کے آڈٹ کا حکم

لاہور ہائیکورٹ : آئی جی پنجاب کو تاخیر کا شکار مقدمات کے آڈٹ کا حکم

پولیس 14روز کے اندر تفتیش مکمل کرنیکی پابند،چھ سال کیس فائل کا نظر انداز رہنا انتظامی نااہلی ، غفلت دور کرنیکی ہدایت 2018 کے قتل کے مقدمے میں 2025 میں گرفتار ہونے والے ملزم کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور ی کا تفصیلی فیصلہ

لاہور (کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ نے پولیس کی ناقص تفتیش اور مقدمات میں غیر معمولی تاخیر پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی پنجاب کو صوبہ بھر میں تاخیر کا شکار مقدمات کا آڈٹ کرانے ، ذمہ دار افسروں کی غفلت دور کرنے اور تیس روز کے اندر عملدرآمد  رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ پولیس کی غفلت کا بوجھ کسی ملزم پر نہیں ڈالا جا سکتا، جبکہ غیر ضروری تاخیر منصفانہ ٹرائل اور بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے ۔جسٹس طارق ندیم نے 2018 کے قتل کے مقدمے میں 2025 میں گرفتار ہونے والے ملزم کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے بارہ صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ملزم کے خلاف درج مقدمے میں تقریباً سات سال تک نہ مؤثر تفتیش کی گئی، نہ ملزم کو گرفتار کیا گیا اور نہ ہی اسے اشتہاری قرار دینے کے لیے قانونی تقاضے پورے کیے گئے ۔فیصلے میں کہا گیا کہ قانون پولیس کو چودہ روز کے اندر تفتیش مکمل کرنے کا پابند بناتا ہے ، تاہم اس مقدمے میں چھ سال سے زائد عرصے تک کیس ڈائری بھی باقاعدگی سے نہیں لکھی گئی، جو قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ روزانہ کیس ڈائری تحریر کرنا تفتیشی افسر کی قانونی ذمہ داری ہے اور اس میں غفلت پورے نظامِ انصاف کو متاثر کرتی ہے ۔

عدالت نے مزید آبزرویشن دی کہ پولیس نے مقدمے کے کراس ورژن کی مؤثر تفتیش نہیں کی اور یکطرفہ تحقیقات قانون کے تقاضوں کے منافی ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ تفتیشی افسر کا بنیادی فرض اصل حقائق سامنے لانا اور حقیقی ملزم تک پہنچنا ہے ، نہ کہ صرف ایک رخ پر تحقیقات کرنا۔ ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ضلعی پولیس کی نگرانی کا نظام اس مقدمے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتا ہے ، جبکہ چھ سال تک کیس فائل کا نظر انداز رہنا انتظامی نااہلی کی واضح مثال ہے ۔

عدالت نے واضح کیا کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد کسی ملزم کو مزید جیل میں رکھنا قانونی طور پر درست نہیں اور ٹرائل سے پہلے غیر ضروری قید قبل از وقت سزا کے مترادف ہے ۔ اسی بنیاد پر عدالت نے ملزم کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دے دیا۔عدالت نے فیصلے کی نقل آئی جی پنجاب کو بھجوانے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا کہ اسے صوبہ بھر کے تمام آر پی اوز، سی پی اوز، ڈی پی اوز اور ہیڈز آف انویسٹی گیشن تک پہنچایا جائے تاکہ تاخیر کا شکار مقدمات کا آڈٹ کر کے غفلت کے اسباب دور کیے جائیں۔ عدالت نے آئی جی پنجاب کو تیس روز کے اندر عملدرآمد رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرانے کا بھی حکم دے دیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں