15جولائی تا 30اگست:شدید گرمی،تیز بارشوں،سیلاب کا خدشہ وفاق اور سندھ حکومت متحرک

15جولائی  تا 30اگست:شدید  گرمی،تیز  بارشوں،سیلاب  کا  خدشہ  وفاق اور  سندھ  حکومت متحرک

موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کیلئے وزیراعلیٰ ہاؤس میں اجلاس،سندھ سب سے زیادہ حساس صوبہ،این ڈی ایم اے کی بریفنگ حفاظتی بندوں کا مسلح افواج کے تعاون سے سروے جاری،این ایچ اے ،ریلوے ہائی الرٹ،24گھنٹے رابطے کا نظام بھی فعال جان و مال کے تحفظ کیلئے تیار رہیں، جام خان شورو،موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں موجودہ دور کا خطرہ ہے ، مصدق ملک

کراچی (سٹاف رپورٹر)وفاقی اور سندھ حکومت نے 15جولائی سے 30اگست تک شدید گرمی، تیز بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہنگامی تیاریوں کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے ۔ وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں سیلاب، شہری علاقوں میں  بارش کے پانی کے نکاس، ہیٹ ویوز اور دیگر موسمی خطرات سے نمٹنے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ این ڈی ایم اے نے بریفنگ میں بتایا کہ سندھ دریائے سندھ کے آخری حصے میں واقع ہونے کے باعث سب سے زیادہ حساس صوبہ ہے اور کشمور، گھوٹکی، سکھر، شکارپور، لاڑکانہ، دادو، جامشورو، قمبر شہدادکوٹ، کراچی، حیدرآباد، بدین، سجاول اور ٹھٹھہ سمیت متعدد اضلاع خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ حفاظتی بندوں کا مسلح افواج کے تعاون سے سروے جاری ہے جبکہ این ایچ اے ، پاکستان ریلوے اور دیگر اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے ۔ وفاقی اور صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹرز کے درمیان چوبیس گھنٹے رابطہ نظام بھی فعال کر دیا گیا ہے ۔ حکام کے مطابق متوقع ایل نینو کے باعث خریف کی فصلوں، خصوصاً چاول، کپاس، مکئی اور گنے کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔وزیر آبپاشی جام خان شورو نے کہا کہ تمام متعلقہ اداروں کو انسانی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل نہیں بلکہ حال کا چیلنج ہے ، جس سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے یقین دلایا کہ صوبائی انتظامیہ نے اپنی تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور وفاقی اداروں سے مسلسل رابطے میں ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں