پختونخوا ، بلوچستان کی صورتحال پر پارلیمنٹ سے رہنما ئی لینا نا گزیر
سیاسی ،جمہوری حلقوں کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بحث کیلئے گرین سگنل اے پی سی کی تجویز بھی زیر گردش ، حکومت، اپوزیشن ایک پیج پر نظر آئیں گی،سیاسی حلقے
اسلام آباد (سہیل خان)قومی امن کو یقینی بنانے کیلئے پارلیمنٹ سے رہنمائی ناگزیر ہوچکی ہے ،سیاسی ،جمہوری حلقوں نے بھی تعاون کا عندیہ دے دیا اور تمام شراکت داروں کی موجودگی میں پارلیما نی قومی سلامتی کمیٹی یا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بلوچستان ،خیبر پختونخوا کے حالات کو زیر بحث لانے کے لیے گرین سگنل دے دیا ۔ مختلف سیاسی حلقوں میں ان دنوں بلوچستان ،خیبرپختونخوا کے حالات موضوع بحث بنے ہوئے ہیں، ہر شخص کو اب تک ان معاملات کو ایوانوں میں زیر بحث نہ آنے پر حیرانگی ہے۔
پارلیمانی حلقوں کے مطابق ماضی میں پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ملک میں بڑھتی بدامنی پر پارلیمنٹ متحرک ہونے پر تمام اداروں کے سربراہان کی مشاورت اور تمام جماعتوں کی شرکت سے قیام امن کے بہترین نتائج نکلے ۔ ماضی میں نواب اکبر بگٹی کے قتل پر صوبے کے حالات بگڑنے ،سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی حملے کا نہ صرف پارلیمان نے نوٹس لیا تھا بلکہ مشرف دور کے حالات پر جامع 65نکاتی تجاویز پر مشترکہ رہنما اصول وضع کیے گئے تو حالات بہتر ہوتے گئے ،سیاسی حل کی راہ ہموار ہوئی تو بلوچستان پیکیج کا پارلیمان کی وجہ سے اعلان ہوا۔
سکیورٹی اداروں نے سکھ کا سانس لیا اور سب پارلیمان کے ممنون احسان دکھائی دیئے ، بلوچستان میں ناراض لوگ پہاڑوں سے اتر کر قومی دھارے کا حصہ بننے لگے ،اسی طرح مذکورہ سکیورٹی معاملے پر پارلیمان کی وجہ سے امریکا کو پاکستان سے معذرت کر نا پڑی ۔ سیاسی حلقوں کے مطابق زیادہ دیر پارلیمان کو بلوچستان ،خیبر پختونخوا کے معاملات سے لاتعلق نہیں رکھا جاسکتا ، اس کے پر امن حل کیلئے حکومت اپوزیشن ایک پیج پر نظر آئیں گی۔ پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی یا مشترکہ اجلاس میں قیام امن کی تدابیر نکالی جائیں، اسی طرح تمام پارلیمان کے اندر اور باہر سیاسی جماعتوں کے فیصلہ سازوں کے درمیان یہ تجویز بھی زیر گردش ہے کہ دونوں صوبوں کے معاملات پر کل جماعتی کانفرنس بلائی جائے ، اس حوالے سے سب ہی اس میں شرکت کے لیے آمادہ دکھائی د یتے ہیں ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments