مثالی گاؤں منصوبہ کے معیار اور شفافیت پر ’’سوال ‘‘اٹھ گئے
حکومتی ایم پی اے ملک احمد سعید کا اپنے حلقے میں مثالی گاؤں بنانے سے انکار 70فیصدپرانی اینٹوں کا استعمال قابل قبول نہیں :سپیشل کمیٹی میں اظہارخیال
لاہور (سیاسی نمائندہ)پنجاب حکومت کے فلیگ شپ منصوبے مثالی گاؤں کے معیار اور شفافیت پر پنجاب اسمبلی کی سپیشل کمیٹی کے اجلاس میں سوالات اٹھا دئیے گئے ۔حکومتی رکن پنجاب اسمبلی ملک احمد سعید خان نے منصوبے پر سخت تنقید کرتے ہوئے اپنے حلقے میں مثالی گاؤں بنانے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں8 مثالی گاؤں دینے کا کہا گیا تھا، تاہم صرف2دئیے گئے اور ان میں سے ایک بھی تعمیر نہیں کیا گیا۔ملک احمد سعید نے کہا انہیں بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت 70 فیصد پرانی اور صرف 30 فیصد نئی اینٹیں استعمال کی جائیں گی، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹریکٹر ٹرالیوں کی آمدورفت سے خراب ہونے والی اینٹیں استعمال کرکے کسی بستی کو مثالی گاؤں قرار دینا مناسب نہیں۔اجلاس کے دوران ملک احمد سعیدنے منصوبے کے معیار پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر یہی طریق کار ہے تو وہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ٹیم کے ساتھ مل کر اس سے بہتر مثالی گاؤں خود بنا سکتے ہیں۔سپیشل کمیٹی کے چیئرمین سمیع اللہ خان نے بھی منصوبے میں بہتری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اگر واقعی مثالی گاؤں بنانا مقصود ہے تو موجودہ تجویز پر نظرثانی کی جائے ۔اجلاس میں لوکل گورنمنٹ، واسا اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسروں نے شرکت کی۔ واضح رہے کہ سپیشل کمیٹی کا اجلاس ملک احمد سعید خان کے چمڑا فیکٹریوں سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس کے تناظر میں منعقد ہوا تھا، تاہم اس دوران مثالی گاؤں منصوبے پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments