آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا امریکی دعویٰ جلتی پر تیل

آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا امریکی دعویٰ جلتی پر تیل

ایران کے کنٹرول اور حملوں نے تیل کی قیمتوں کو شدیدمتاثر کیا

(تجزیہ:سلمان غنی)

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کے دعویٰ کو جلتی پر تیل کا عمل قراردیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ آبنائے ہرمز ہی ہے جس کے باعث امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والا مفاہمتی عمل اور معاہدہ اثر انداز ہوا اور ایران کسی طرح بھی سمندر کے طے شدہ راستوں کے برخلاف کسی اور راستے سے جہاز رانی کے عمل کو ہضم نہیں کرپا رہا اور طے شدہ راستوں کی خلاف ورزی کے مرتکب جہازوں پر ڈرونز پھینکنے کے عمل پر مجبور ہے ،آبنائے ہرمز پر ایران کا مؤقف حقیقت پسندانہ ہے ،جہاں تک صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز بارے یہ کہنا کہ اس کا کنٹرول ہم حاصل کر رہے ہیں اورسرپرست بنیں گے ،ان کا یہ بیان دراصل طاقت کے مظاہرے ، اقتصادی دباؤ اور سفارتی جوڑ توڑ کی سنجیدہ حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے ۔

دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو ریڈلائن بنا رکھا ہے اور وہ کسی صورت بھی آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو کمزور نہیں پڑنے دے گا اور مذکورہ صورتحال کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے صدر ٹرمپ تو اس پر کنٹرول کے دعوے کرتے نظر آ رہے ہیں لیکن امریکی فوج سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو کنٹرول نہیں کر سکتا، وہ اسے بین الاقوامی آبی گزرگاہ قرار دیتے ہیں۔ جبکہ ایران نے اپنی طرف سے ایک اتھارٹی قائم کرکے سب کو گزرنے کیلئے اجازت نامے لازمی قرار دے رکھے ہیں اور اب اس نے اسے بند کر دیا ، جس پر امریکا نے ایرانی اہداف پر حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے ۔ دوسری جانب ایران نے بھی جواباً خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کو ٹارگٹ کرنا شروع کر رکھا ہے ۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران امریکا معاہدے کے بعد خلیج میں امریکی اتحادیوں کے جہازوں پر ایرانی حملوں کے عمل نے امریکی صدر ٹرمپ کو سیخ پا کیا اور انہوں نے معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر حملہ آور ہونے کا اعلان کردیا اوراب مسلسل ایک دوسرے کے خلاف اقدامات کا سلسلہ جاری ہے ، ایران نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ امریکی مداخلت جاری رہی تو عالمی تیل اور گیس کی صنعت میں بڑے واقعات پیش آ سکتے ہیں۔ لہٰذا کہا جاسکتا ہے کہ یہ اب محض الفاظ، بیانات اور اعلانات کی جنگ نہیں رہی بلکہ یہ ایک قومی تنازع کی صورت اختیار کر چکی ہے جس کا فوری کوئی سیاسی حل نظر نہیں آ رہا ،خصوصاً پاکستان اور قطر کشیدگی کے خاتمہ کیلئے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

البتہ ماہرین کا کہنا ہے کہ کشیدگی کم کرنے کیلئے فریقین کو عبوری معاہدے پر عملدرآمد کرنا ہوگا ،آبنائے ہرمز دنیا سے تقریباً ایک چوتھائی سمندری تیل پر تجارت گزرتی ہے ، اس پر ایران کے کنٹرول اور حملوں نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو شدیدمتاثر کیا ہے ۔ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کیلئے مڈٹرم انتخابات سے پہلے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنا اہم سیاسی ترجیح ہے ، امریکا اس حقیقت سے بھی پریشان ہے کہ اس کی بڑی طاقت کے باوجود ایران کے حملوں کو روکنے اور آبنائے ہرمز کو بحال کرنے میں ناکام رہا ہے ۔ اب امریکا ہر قیمت پر اپنی ساکھ کی بحالی کیلئے آبنائے ہرمز پر آزادانہ تجارتی عمل کو یقینی بنانا چاہتا ہے ،اب تو یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ محض امریکا اور ایران کی جنگ نہیں رہی، اس تنازع نے اب چین سمیت عالمی طاقتوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے ،تنازع خطے کی سرحدوں سے نکل کر عالمی توانائی جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...