سپریم کورٹ آئینی عدالت ،بار پر قبضہ قبول نہیں کرینگے :حامد خان

سپریم کورٹ آئینی عدالت ،بار پر قبضہ قبول نہیں کرینگے :حامد خان

جو جج لائے جارہے انہیں اسٹیبلشمنٹ کہہ رہی آپ ہمارا ساتھ دو:رہنما پی ٹی آئی بار فنڈز جاری نہ ہوئے تو اسمبلی کا گھیراؤ کریں گے :بابر مرتضیٰ ، عرفان باجوہ

لاہور (کورٹ رپورٹر )پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حامد خان نے کہا ہے کہ ملک میں دو عدالتیں نہیں ہوتیں، سپریم کورٹ ہی آئینی عدالت ہوتی ہے ،اب اسٹیبلشمنٹ بار پر قبضہ کرنا چاہتی ہے ہم ایسا نہیں ہونے دینگے ،جب بھی وکلا کا آزاد الیکشن ہوتا ہے اسٹیبلشمنٹ کا گروپ ہار جاتا ہے ،جعلی حکومت اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر ملک میں تباہی مچا رہی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ بار میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر صدر لاہور ہائیکورٹ بار بابر مرتضیٰ ،صدر لاہور بارایسوسی ایشن عرفان حیات باجوہ نے بھی اظہار خیال کیا۔

حامد خان نے مزید کہا کہ جو جج لائے جارہے ہیں انکو اسٹیبلشمنٹ کہہ رہی ہے آپ ہمارا ساتھ دو،جو آئینی ترمیم ہوئی اس نے جوڈیشری اور آئین کو ختم کردیا۔بابر مرتضیٰ نے کہا کہ پچھلے کچھ دنوں سے ہائیکورٹ کے ججوں کی فہرست گردش کررہی ہے ، اس بارے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ بھی بے بس نظر آئیں، اس لسٹ میں زیادہ تر سرکاری وکلا کے نام ہیں جو حکومتی جج ہونگے ، چیف جسٹس سے اپیل ہے اس فہرست پر نظر ثانی کیا جائے ۔انہوں نے مزید کہا کہ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترمیم بارے ہماری درخواستوں کو سماعت کیلئے مقرر نہیں کیا جارہا ، حکومت کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ بار کے فنڈزجاری نہ ہوئے تو اسمبلی اور وزیر اعلیٰ آفس کا گھیراؤ کرسکتے ہیں ۔ عرفان حیات باجوہ نے کہا کہ 26 اور 27ویں ترمیم کے ذریعے ججوں کی تعیناتی غیر قانونی ہے ، ہم ان تعیناتیوں کو تسلیم نہیں کریں گے ،لاہور بار اور لاہور ہائیکورٹ بار کے فنڈز جاری نہ ہوئے تو تحریک چلائیں گے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...