نئی گاج ڈیم تعمیر، کسی بھی عدالت کو مداخلت سے روکدیاگیا
عدالتیں طے شدہ قانونی حقوق و ذمہ داریوں کو ازسرِنو متعین نہیں کر سکتیں:آئینی عدالت واپڈا اور کنٹریکٹر کے ایم او یو میں ترمیم کرکے آئینی دائرہ اختیار سے تجاوز کیا گیا:فیصلہ
اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)وفاقی آئینی عدالت نے نئی گاج ڈیم تعمیر کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ڈیم تعمیر مکمل ہونے تک کسی بھی عدالت کو مداخلت سے روک دیا، وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ کا آئینی اختیار خالصتاً معاہداتی تنازعات کے تصفیے یا فریقین کے درمیان طے شدہ معاہدوں، ثالثی ایوارڈز اور عدالتی ڈگریوں میں ردوبدل تک وسیع نہیں ہو سکتا، کیونکہ عدالتیں عوامی مفاد کے نام پر فریقین کے مابین طے شدہ قانونی حقوق و ذمہ داریوں کو ازسرِنو متعین نہیں کر سکتیں۔چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے نئی گاج ڈیم منصوبے سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کے 6 اکتوبر 2023 اور 27 مئی 2025 کے فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا۔
تحریری فیصلہ کے مطابق عدالت نے قرار دیا کہ سندھ ہائیکورٹ نے واپڈا اور کنٹریکٹر کے درمیان ثالثی ایوارڈ، اس کی بنیاد پر جاری عدالتی ڈگری اور بعد ازاں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں ترمیم کرکے اپنے آئینی دائرہ اختیار سے تجاوز کیا۔ عدالتیں آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے کسی فریق کو ایسا معاہداتی فائدہ نہیں دے سکتیں جس پر وہ خود رضامند نہ ہوا ہو۔فیصلے میں کہا گیا کہ کنٹریکٹر نے 2018 کی قیمتوں پر منصوبہ مکمل کرنے کی شرط قبول کی تھی، اس لیے بعد میں پاکستان انجینئرنگ کونسل کی سفارشات کی بنیاد پر پرائس ایسکلیشن یا مہنگائی کے باعث اضافی ادائیگیوں کا مطالبہ قانونی طور پر قابل قبول نہیں،وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ کنٹریکٹر نے جعلی پرفارمنس بینک گارنٹی جمع کرائی، جس کی بینک آف پنجاب نے بھی تصدیق کی۔ جعلی گارنٹی جمع کرانا معاہدے کی بنیادی خلاف ورزی تھی، لہٰذا واپڈا کی جانب سے معاہدہ ختم کرنا قانونی اختیار کے مطابق تھا۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ سندھ ہائیکورٹ کو قومی احتساب بیورو (نیب) کی تحقیقات میں مداخلت یا انہیں روکنے کا اختیار حاصل نہیں تھا، کیونکہ مبینہ جعلی بینک گارنٹی سے متعلق کارروائی احتسابی اداروں کے قانونی دائرہ اختیار میں آتی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments