جسٹس محمود کا انصاف کی فراہمی میں نمایاں کردار، چیف جسٹس

جسٹس محمود کا انصاف کی فراہمی میں نمایاں کردار، چیف جسٹس

عدالتی زندگی دیانتداری، قابلیت، قانون کی بالادستی سے عبارت،جسٹس ظفر راجپوت ریٹائرمنٹ کے موقع پر فل کورٹ ریفرنس،حسیب جمالی، عامر نواز وڑائچ کا بھی خطاب

کراچی (سٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس محمود اے خان کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر فل کورٹ ریفرنس ہوا جس میں چیف جسٹس ظفر احمد راجپوت، ہائی کورٹ کے ججز، بار ایسوسی ایشنز کے عہدیداروں، سینئر وکلا اور عدالتی افسروں نے شرکت کی۔ جسٹس محمود اے خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد سندھ ہائی کورٹ میں مستقل ججز کی تعداد 30 رہ گئی جبکہ ایڈیشنل جج جسٹس فیض الحسن شاہ کی مدت ملازمت 28 جولائی کو ختم ہو رہی ہے ۔ فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس ظفر احمد راجپوت نے کہا جسٹس محمود اے خان نے اپنی عدالتی ذمہ داریاں ہمیشہ آئین اور قانون کے مطابق انجام دیں۔ فل کورٹ ریفرنس محض ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ ایک ایسے جج کی خدمات کے اعتراف کا اظہار ہے جس نے عدلیہ کے وقار اور انصاف کی فراہمی میں نمایاں کردار ادا کیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس محمود اے خان نے بطور جج 11 ہزار مقدمات نمٹائے ۔ ان کی عدالتی زندگی دیانتداری، قابلیت اور قانون کی بالادستی سے عبارت رہی۔ریٹائر ہونے والے جسٹس محمود اے خان نے اپنے خطاب میں چیف جسٹس، ساتھی ججز، وکلا، عدالتی عملے اور اہل خانہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کامیابی اہل خانہ، برادر ججز، اسٹاف اور وکلا کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھی۔فل کورٹ ریفرنس سے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر حسیب جمالی نے جسٹس محمود اے خان کی پیشہ ورانہ خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ 1994 میں ڈسٹرکٹ کورٹس میں بطور وکیل انرول ہوئے اور عدالتی نظام میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر عامر نواز وڑائچ نے کہا کہ جسٹس محمود اے خان نے بطور جج انصاف کی فراہمی کے لیے قابل قدر خدمات انجام دیں، امید ہے وہ مستقبل میں بھی قانون و انصاف کے شعبے میں اپنا مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...