ذیلی کمیٹی :پی ایم اینڈ ڈی سی سے 5 سالہ ایم ڈی کیٹ ریکارڈ طلب
غلط ایم ڈی کیٹ اشتہار فوری درست اور وضاحتی اشتہار شائع کرنے کی ہدایت 2024میں1لاکھ 13ہزار طلبہ کامیاب، میڈیکل نشستیں صرف 22 ہزار
اسلام آباد (نیوز رپورٹر)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کی ذیلی کمیٹی نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی)سے میڈیکل و ڈینٹل کالجوں میں داخلوں اور ایم ڈی کیٹ کے گزشتہ پانچ سال کا ریکارڈ طلب کر لیا۔ اجلاس سینیٹر انوشہ رحمان کی صدارت میں ہواجس میں ایم ڈی کیٹ اور طلبہ سے متعلق قومی پالیسی فریم ورک کا جائزہ لیا گیا۔پی ایم اینڈ ڈی سی حکام نے بتایا کہ ایف ایس سی اور اے لیول کے مشترکہ نصاب پر اتفاق رائے کے بعد متفقہ سلیبس تیار کیا گیا جس سے گزشتہ سال نصاب سے متعلق شکایات میں نمایاں کمی آئی۔
ذیلی کمیٹی نے سوالات کے بینک اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی تفصیلات بھی طلب کر لیں۔کمیٹی نے بیرون ملک میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے ایم ڈی کیٹ کو لازمی قرار دینے والا اخباری اشتہار فوری درست کرنے اور قومی اخبارات کے صفحئہ اول پر وضاحتی اشتہار شائع کرنے کی ہدایت کی۔ حکام نے واضح کیا کہ ایم ڈی کیٹ تمام غیر ملکی جامعات نہیں بلکہ صرف چند مخصوص جامعات کے لیے لازمی ہے ۔ کمیٹی نے اس پالیسی کی نقل بھی طلب کی تاہم حکام واضح جواب نہ دے سکے ۔
ذیلی کمیٹی نے کہا کہ اگر مقصد طلبہ کو غیر معیاری غیر ملکی میڈیکل کالجوں میں داخلے سے روکنا ہے تو پی ایم اینڈ ڈی سی میں رجسٹریشن لازمی قرار دینا زیادہ مؤثر ہوگا، ایم ڈی کیٹ کو لازمی بنانا مناسب نہیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2024 میں ایک لاکھ 68 ہزار سے زائد امیدواروں نے ایم ڈی کیٹ دیا جن میں ایک لاکھ 13 ہزار سے زائد کامیاب قرار پائے مگر ملک بھر میں صرف 22 ہزار 300 میڈیکل نشستیں دستیاب تھیں۔ کمیٹی نے نشستوں اور طلب کے فرق پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پی ایم اینڈ ڈی سی کو ہدایت کی کہ گزشتہ پانچ برس کے اعدادوشمار، دنیا میں ڈاکٹروں کی طلب، نجی شعبے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، وظائف اور تعلیمی قرضوں سے متعلق قابلِ عمل سفارشات تیار کرکے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو پیش کی جائیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments