ایک وفاق اور چار صوبوں کا نظام ملک میں بددلی پیدا کررہا:مصطفیٰ کمال

ایک  وفاق  اور  چار  صوبوں  کا  نظام  ملک  میں  بددلی  پیدا  کررہا:مصطفیٰ  کمال

گھر کے فلورز بڑھنے سے وہ ٹوٹتے نہیں جڑ جاتے ہیں، نئے صوبوں کیلئے آئین میں ترمیم کی فیصلہ کن جدوجہد کا اعلان سندھ کے حکمرانوں کو ہر حال میں حقوق دینے ہونگے ،انیس قائم خانی ، ایم کیوایم کاشاہ فیصل ٹاؤن میں احتجاجی اجتماع

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایم کیو ایم پاکستان نے ملک میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کا واضح طریقہ کار آئین پاکستان میں درج کرانے کی فیصلہ کن جدوجہد کا آغاز کردیا۔مصطفیٰ کمال نے آئین پاکستان کی کتاب لہراتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس آئین  میں عام لوگوں کیلئے اختیارات اور وسائل ان کی دہلیز پر پہنچانے کی ترمیم کرانی ہے ، ملک کا موجودہ نظام ناکام ہو چکا، ایک وفاق اور چار صوبے کا نظام ملک میں بد دل لوگ پیدا کر رہا ہے ، آئین میں رہتے ہوئے نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے ، اسی سے پاکستان کی بقا و سلامتی مشروط ہے ،نئے صوبے بنانے سے ملک یا سندھ نہیں ٹوٹتا بلکہ مضبوط ہوتا ہے ، گھر کے فلورز بڑھنے سے وہ ٹوٹتے نہیں جڑ جاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سینئر مرکزی رہنما و وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے شاہ فیصل ٹاؤن میں احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم پاکستان کے آئین، قانون، پارلیمنٹ اور ریاست کے دائرے میں رہ کر اپنے بچوں اور نسلوں کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں، ہم ہتھیار اٹھانے یا بغاوت کرنے کے سخت خلاف ہیں، یہ اجتماع پاکستان بنانے والوں کی اولادوں کا ہے ۔

انہوں نے کہا گزشتہ 18 برس میں سندھ حکومت کو وفاق سے 22 ہزار ارب روپے ملے ،اتنے خطیر فنڈز کے باوجود کراچی اور پورا سندھ تباہ حال ہے ، اس کے برعکس میرے دور نظامت میں صرف 300 ارب روپے سے کراچی دنیا کے 12 تیز ترین ترقی کرتے شہروں میں شامل ہوا تھا، وفاق ہمارے پیسے نہیں روکتا، مسئلہ صوبائی حکمرانوں کی ہٹ دھرمی ہے ،چار وزرائے اعلیٰ تمام فنڈز دبا کر بیٹھے ہیں اور نچلی سطح تک کچھ دینے کو تیار نہیں، کراچی کو بااختیار بنانے سے پاکستان چلے گا، دنیا بھر میں شہر ملکوں کو امیر بناتے ہیں، کراچی پورے ملک کو 70 فیصد ریونیو دیتا ہے ،اگر اسے اختیارات اور وسائل دیے جائیں تو یہ 4 ہزار ارب کے بجائے 40 ہزار ارب روپے کما کر ملکی معیشت بحال کر سکتا ہے ۔ ایم کیو ایم اب کسی ایک طبقے کی نہیں بلکہ تمام مظلوم سندھیوں، مہاجروں، پختونوں، بلوچوں، پنجابیوں اور سرائیکیوں کی واحد امید بن چکی ہے ، حکمران اب لسانیت کے نام پر عوام کو لڑا کر حکومت نہیں کر سکتے ۔ انیس قائم خانی نے کہا کہ لیاقت آباد کے اجتماع میں کہا تھا حقوق کی جدوجہد کا یہ سفر اب رکے گا نہیں، لیاقت آباد سے شروع ہونے والا یہ سفر شاہ فیصل سے ہوتا ہوا کراچی کے کونے کونے تک جائے گا، کراچی والوں کی نسل کشی اور استحصال کا خاتمہ ہونا چاہیے ، اب یہ احتجاج گلی محلوں سے نکل کر ظالم حکمرانوں کے گھروں تک جائے گا، عوام اب ظلم کے آگے بس بول چکے ہیں اور اپنے حقوق چھین کر رہیں گے ۔

فرقان اطیب نے کہا کہ شاہ فیصل کے عوام نے جو جذبہ دکھایا ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کراچی کا ہر شہری ایم کیو ایم کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور یہ تحریک پورے شہر میں پھیلے گی، ایم کیو ایم پاکستان ظالم حکمرانوں کے خلاف متحد اور منظم ہے ۔ رکن قومی اسمبلی آسیہ اسحاق نے کہا کہ سندھ کے حکمرانوں نے سندھ کو عملاً کئی ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا ہے ، ایک سندھ وہ ہے جہاں بچے گٹر کے پانی میں ڈوب رہے ہیں، پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں، ایک سندھ وہ ہے جو 50 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار اور پڑھے لکھے نوجوان فوڈ پانڈا اور بائیکیا چلانے پر مجبور ہیں اور ایک سندھ وہ ہے جو حکمرانوں کا سندھ ہے جس نے 22 ہزار ارب روپے ڈکار کر باقی سندھ کو برباد کردیا، پاکستان اب مزید چار وزرائے اعلیٰ کی ’’بادشاہت‘‘برداشت نہیں کرے گا۔نجم مرزا نے کہا یہ صرف کوئی روایتی سیاسی جلسہ نہیں بلکہ ان ماؤں اور بہنوں کا استغاثہ ہے جو روزانہ گھروں میں پانی اور گیس کا انتظار کرتی ہیں، شاہ فیصل ٹاؤن سے شروع ہونے والی یہ احتجاجی لہر اب پورے کراچی میں پھیلے گی اور عوام اپنے حقوق کا حساب لیں گے ۔رکن صوبائی اسمبلی شارق جمال نے کہا لاڑکانہ کو کراچی بنانے کا دعویٰ کرنے والوں نے سندھ کی بدانتظامی کے باعث کراچی کو موئن جو دڑو بنا دیا ہے ۔ جب تک لوگ اپنے گھروں سے نکل کر اس ظالم نظام کے خلاف آواز نہیں اٹھائیں گے ، مسائل حل نہیں ہوں گے ۔علاوہ ازیں ایم کیو ایم پاکستان کے تحت شاہ فیصل ٹاؤن میں عوام کے بنیادی مسائل، پانی، گیس، بجلی کی عدم فراہمی اور بلدیاتی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے لیے عوامی و احتجاجی اجتماع کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہزاروں ماؤں، بہنوں، بزرگوں، نوجوانوں اور تمام زبانیں بولنے والے شہریوں نے بھرپور شرکت کی۔ اجتماع سے خطاب میں رہنماؤں نے سندھ حکومت کے 18 سالہ طرز حکمرانی کو آڑے ہاتھوں لیا اور آئینی ترمیم کے ذریعے عوامی مسائل کے حل کا عزم ظاہر کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...