10برس میں ایچ آئی وی کے 4 بڑے آؤٹ بریکس، سینکڑوں بچے متاثر

10برس میں ایچ آئی وی کے 4 بڑے آؤٹ بریکس، سینکڑوں بچے متاثر

سندھ میں انفیکشن کنٹرول، سرنجوں کے محفوظ استعمال پر دیرپا حکمت عملی نہ بن سکی ملک میں صرف 21 فیصد متاثرہ افراد کی تشخیص،16 فیصد مریض علاج تک پہنچ پا رہے

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)سندھ میں گزشتہ تقریباً ایک دہائی کے دوران ایچ آئی وی ایڈز کے 4 بڑے آؤٹ بریکس سامنے آچکے ہیں مگر اس کے باوجود انفیکشن کنٹرول، سرنجوں کے محفوظ استعمال، بلڈ سکریننگ، نجی کلینکس کی نگرانی اور غیر محفوظ طبی طریقہ کار کے خاتمے کے لیے مؤثر اور دیرپا حکمت عملی تاحال تشکیل نہیں دی جاسکی۔2016 میں لاڑکانہ میں ڈائیلیسس کے مریضوں میں ایچ آئی وی کی منتقلی کا بڑا واقعہ سامنے آیا جس کے بعد سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی  اور متعلقہ نظام پر سنگین سوالات اٹھے اور بعض بلڈ بینکس کے خلاف کارروائی بھی کی گئی تاہم مستقل اصلاحات نہ ہوسکیں۔2019 میں رتوڈیرو میں بچوں میں ایچ آئی وی کا ہولناک آؤٹ  بریک سامنے آیا جہاں ایک ہزار سے زائد افراد وائرس سے متاثر ہوئے جن میں 80 فیصد سے زائد بچے تھے ۔ عالمی ادارہ صحت سمیت بین الاقوامی اداروں نے بھی اس واقعے کو غیر معمولی قرار دیا جب کہ تحقیقات میں غیر محفوظ انجکشن اور استعمال شدہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال کو بنیادی وجوہات میں شامل کیا گیا۔

مئی 2026 میں خیرپور کے گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں دو درجن سے زائد ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کو لائے جانے کا معاملہ سامنے آیا جس نے ایک مرتبہ پھر سندھ میں بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ پر سنگین سوالات کھڑے کردئیے ۔کراچی کے کلثوم بائی ولیکا ہسپتال میں نومبر 2025 سے بچوں میں ایچ آئی وی کے کیسز سامنے آنا شروع ہوئے اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے ، اس معاملے پر متعلقہ حکام نے غفلت کا اعتراف کرتے ہوئے ملوث افراد کے خلاف کارروائی بھی کی تاہم صحت عامہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ محض انفرادی کارروائیاں اس مسئلے کا مستقل حل نہیں بلکہ نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تمام بڑے آؤٹ بریکس میں ایک مشترکہ عنصر غیر محفوظ طبی طریقہ کار، خصوصاً استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال، انفیکشن کنٹرول میں خامیاں اور نگرانی کے نظام کی کمزوری ہے ، اگر ہر بڑے سانحے کے بعد مؤثر اصلاحات نافذ کردی جاتیں تو بعد کے واقعات کو بڑی حد تک روکا جا سکتا تھا۔

صحت عامہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بار بار رونما ہونے والے یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہر سانحے کے بعد وقتی اقدامات تو کیے گئے مگر بنیادی اصلاحات اور مضبوط نگرانی کا نظام قائم نہیں ہو سکا جس کے باعث ایچ آئی وی کا پھیلاؤ مسلسل ایک سنگین عوامی صحت کے بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے ۔اپریل میں میڈیکل مائیکرو بایولوجی اینڈ انفیکشن ڈیزیزز سوسائٹی آف پاکستان نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک میں ایچ آئی وی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ پر ایک تفصیلی وائٹ پیپر جاری کیا تھا،اس میں خبردار کیا گیا تھا کہ پاکستان میں 2010 کے بعد ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد میں 4.3 گنا اضافہ ہو چکا ہے جب کہ ایڈز سے ہونے والی سالانہ اموات بھی کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا تھا کہ ملک میں صرف 21 فیصد متاثرہ افراد کی تشخیص ہو رہی ہے جبکہ محض 16 فیصد مریض علاج تک پہنچ پا رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...