بلوچستان : ڈی ایس پی بارکھان فائرنگ سے شہید ، کیچ سے 6 مزدور اغوا ، ایک قتل
تربت جاتے 4 پنجابی،3پختون مزدوروں کو اغوا کیا گیا، صوابی کے رہائشی جاوید کی گولیوں سے چھلنی لاش ملی کھنہ چوکی کے قریب پولیس گاڑی پر گولیاں چلائی گئیں ،ایک اہلکار زخمی ، علاقے کو گھیر کر سرچ آپریشن
تربت، کوئٹہ (نامہ نگار ، سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک)بلوچستان کے ضلع بارکھان میں پولیس کی گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں ڈی ایس پی بارکھان مرید بگٹی شہید ہوگئے ، جبکہ ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگیا جبکہ کیچ سے 6 مزدور اغوااور ایک قتل کو کردیا گیا ۔پولیس کے مطابق ڈی ایس پی کی گاڑی پر فائرنگ کا واقعہ کھنہ چوکی کے قریب پیش آیا، واقعے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کردی ۔حکام کا کہنا ہے کہ حملے کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ واقعے میں ملوث افراد کا تعین کیا جا رہا ہے ۔ادھر ضلع کیچ کے علاقے کلاتک میں نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے مرکزی شاہراہ سے 7 مزدوروں کو اغوا کرلیا گیا فائرنگ سے ایک راہگیر اور مغوی جاں بحق ہوگئے۔
پولیس کے مطابق کیچ میں کلاتک میں مزدوری کے بعد تربت واپس جانے والے سات مزدوروں کو نامعلوم مسلح افراد شناخت کے بعد اپنے ساتھ لے گئے مغویوں میں چار پنجابی اور تین پختون شامل ہیں بعد ازاں سورگ کے مقام سے ایک پختون مزدور جاوید سکنہ صوابی کی گولیوں سے چھلنی لاش برآمد ہوگئی جبکہ دیگر پنجاب کے چار رہائشی اور دو پختون مزدور تاحال لاپتا ہیں۔ واقعے کے دوران فائرنگ کی زد میں آکر سولبند کا رہائشی مقامی راہ گیر عبدالرزاق ولد داد محمد بھی جاں بحق ہو گیا ، جس کی لاش ضروری کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئی ۔پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے ، تاہم لاپتا چھ مزدوروں کا تاحال کوئی سراغ نہیں ملا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments