سعودی عرب، امریکا کے مشترکہ حملے : عراق میں ایرانی حمایت یافتہ اتحاد نشانہ، پاسداران انقلاب کے 4 ارکان سمیت 20 جاں بحق، اردن میں امریکی فوجی اڈا ایرانی میزائلوں کا ہدف بن گیا
عراق میں ایرانی حمایت یافتہ گروہ نیا کینسر، سعودی عرب کیساتھ ملکر خاتمے کی کوشش کی، ایران کو حملے کی بھاری قیمت چکانا ہوگی :ٹرمپ،جنگ مزید علاقوں تک پھیلانے کی کوشش:تہران ایران نے عمان کی آبنائے ہرمز کے مشترکہ انتظام سے متعلق پیش کی گئی تجویز مسترد کردی،غیرمجاز راستے سے جانیوالے 3 آئل ٹینکروں پر حملہ ،خام تیل کی قیمتوں میں پھر 7 فیصد سے زائد اضافہ
تہران،ریاض، واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا اور سعودی عرب نے بدھ کے روز عراق میں ایران کے حمایت یافتہ اتحاد پر مشترکہ فضائی حملے کیے ، جس سے پاسداران انقلاب کے 4ارکان سمیت 20 اہلکار جاں بحق ہوگئے ،ایران نے تصدیق کی کہ اس نے اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں اور آبنائے ہرمز میں موجود بحری جہازوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوجیوں پر حملوں کے جواب میں تہران کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو بھاری قیمت چکانا ہوگی۔ ادھر ایران نے عمان کی جانب سے آبنائے ہرمز کے مشترکہ انتظام سے متعلق پیش کی گئی تجویز بھی مسترد کر دی۔بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پورے خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے اور عالمی توانائی کی سپلائی بھی متاثر ہو رہی ہے ۔بدھ کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ برینٹ خام تیل کے سودے 7فیصد سے زیادہ اضافے کے بعد 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئے ، یوں ہفتے کے آغاز میں امریکی حملے اچانک معطل ہونے کے بعد آنے والی گراوٹ کا بڑا حصہ ختم ہو گیا۔
واشنگٹن اور ریاض کی جانب سے یہ پہلا موقع ہے کہ سعودی عرب نے امریکا کے ساتھ مل کر ایران نواز گروپوں کے خلاف فوجی کارروائی میں اپنی شرکت کا کھلے عام اعلان کیا ہے ۔ مبصرین کے مطابق اس اقدام سے تنازع مزید وسیع ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں سعودی عرب، ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروپوں کے خلاف ایک نئے محاذ پر براہِ راست فریق بن گیا ہے ۔عراق کی پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) جو ایران نواز نیم فوجی تنظیموں کا اتحاد ہے اور عراقی سکیورٹی فورسز کا حصہ بھی ہے ، نے بتایا کہ امریکی اور سعودی حملوں میں ملک بھر میں ان کے متعدد اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 20 اہلکار جاں بحق اور 32 زخمی ہوئے ۔ایرانی اخبار کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں پاسداران انقلاب کے 4 فوجی مشیر بھی شامل ہیں۔ پی ایم ایف کے مطابق حملے بغداد، واسط، نینویٰ، بصرہ، کرکوک، کربلا اور دیالیٰ سمیت سات صوبوں میں کئے گئے ،ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے ، حملوں کے نتیجے میں عمارتوں، فوجی گاڑیوں اور عسکری سازوسامان کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
واشنگٹن اور ریاض کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی عراق سے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر کیے گئے ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی، جن کا الزام ایران نواز مسلح گروپوں پر عائد کیا گیا ہے ۔یہ گزشتہ جمعے کے بعد مشرق وسطیٰ میں امریکا کی پہلی بڑی فوجی کارروائی ہے ، جب صدر ٹرمپ نے فوجی کمانڈروں کے مشورے پر 13 روز تک جاری رہنے والی شدید بمباری مہم اچانک روک دی تھی۔عراقی حکومت نے صورتحال پر غور کیلئے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا۔ وزیراعظم کے دفتر نے تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عراق کو علاقائی جنگوں سے دور رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔عراقی ایوانِ صدر نے نیم فوجی گروپوں پر حملوں کو ناقابل قبول جارحیت اور عراق کی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی قرار دیا، تاہم ساتھ ہی مسلح گروپوں پر بھی زور دیا کہ وہ عراق کے ہمسایہ ممالک پر حملے بند کریں۔ٹرمپ نے فوکس نیوز کو بتایا کہ کارروائی سے قبل عراقی حکومت سے رابطہ اور ہم آہنگی کی گئی تھی، تاہم بغداد نے اس دعوے کی نہ تو تصدیق کی اور نہ ہی تردید، بلکہ صرف یہ کہا کہ عراقی سرزمین پر ہونے والے حملوں کا جواب دینے کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے۔
ایران نے امریکی اور سعودی حملوں کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جنگ کو مزید علاقوں تک پھیلانے کی کوشش قرار دیا، جبکہ عراق میں سرگرم ایران نواز گروپ حرکت حزب اللہ النجباء نے خبردار کیا کہ امریکی اور سعودی افواج کو اس کارروائی کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔عراق میں مشترکہ کارروائی سے چند گھنٹے قبل امریکی فوج نے کہا تھا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے خطے میں امریکی فوجیوں پر ایران کا ایک اچانک حملہ ناکام بنا دیا۔اردن کی فوج کے مطابق اس نے ایران کے داغے گئے پانچ میزائل مار گرائے ۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر متعدد بیلسٹک میزائل داغے ، جبکہ آبنائے ہرمز سے غیر مجاز راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے تین آئل ٹینکروں کو بھی نشانہ بنایا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم امریکی دفاعی نظام نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔انہوں نے کہا اردن میں امریکی اڈوں پرحملے کی ایران کو بھاری قیمت چکانا ہو گی،ایران پر سخت حملہ کیا جائے گا اور امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔انہوں نے عراق میں ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کو نیا کینسر قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور امریکا نے مل کر ان کے خاتمے کی کوشش کی ہے ۔خلیجی ممالک کی حمایت سے عمان نے اس ہفتے آبنائے ہرمز کے مشترکہ انتظام اور رضاکارانہ سروس فیس کے نظام کی تجویز پیش کی تھی، تاہم ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ تہران نے اسے غیر معقول قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے ۔عہدیدار کے مطابق عمان کے ساتھ 50،50 فیصد مشترکہ کنٹرول ایران کے مفادات سے مطابقت نہیں رکھتا، اگرچہ تہران عمان کو ایک اہم اور قریبی ہمسایہ سمجھتا ہے ۔ ایران چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز کے اندر آنے والے بحری راستے پر اس کا مکمل جبکہ باہر جانے والے راستے پر جزوی کنٹرول ہو۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments