سیلاب سے بچائو کیلئے 800 ارب کا منصوبہ تیار، ڈیڑھ کروڑ افراد کو تحفظ ملے گا

سیلاب سے بچائو کیلئے 800 ارب کا منصوبہ تیار، ڈیڑھ کروڑ افراد کو تحفظ ملے گا

وفاق 400اور صوبے بھی 400ارب دینگے :ذرائع، آئوٹ پٹ نہ دینے والی تعلیمی ڈگریاں ختم،احسن اقبال

اسلام آباد (مدثر علی رانا) باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ 800 ارب روپے مالیت کے نیشنل فلڈ پروٹیکشن پراجیکٹ کا نظرثانی شدہ فریم ورک تیار کر لیا گیا ہے ۔ وزارتِ منصوبہ بندی نے منصوبے کی منظوری کے لیے اسے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں پیش کرنے کی تیاری مکمل کر لی ۔فزیبلٹی کے مطابق منصوبے کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے اس کی لاگت تقریباً 800 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے ۔ وزارتِ منصوبہ بندی نے منصوبے کی منظوری کے لیے آئندہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانے کی درخواست بھی کی ہے ۔ منصوبے کے تحت وفاق 400 ارب اور صوبے بھی 400 ارب روپے فراہم کریں گے ۔ذرائع کے مطابق منصوبے میں ڈیڑھ کروڑ افراد کو سیلاب سے بچانے کے اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ اس کے تحت فلڈ فورکاسٹنگ اور ارلی وارننگ سسٹم نصب کیے جائیں گے جبکہ نہروں اور پلوں پر ٹیلی میٹری سسٹم بھی لگایا جائے گا۔

منصوبے میں واٹرشیڈ مینجمنٹ، سیلابی خطرات کی زوننگ اور 90 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی کو سیلاب سے محفوظ بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 23 لاکھ 50 ہزار گھروں، درجنوں سکولوں، 70 دیہات، 340 کلومیٹر سڑکوں اور 4 ہزار کسانوں کے تحفظ کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے ۔منصوبے کی تکمیل کے لیے غیر ملکی فنڈنگ حاصل کرنے کا بھی پلان ہے جبکہ مقامی فنڈنگ میں 50 فیصد وفاق اور 50 فیصد صوبے حصہ ڈالیں گے ۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بتایا کہ نیشنل فلڈ پروگرام کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور اسے جلد مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان 50، 50 فیصد فنڈنگ پر اتفاق کیا جا رہا ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ 2017 میں اس منصوبے کی لاگت ساڑھے تین سو ارب روپے تھی اور اسے وفاق اور صوبوں نے مشترکہ طور پر دس برس میں مکمل کرنا تھا۔ مشترکہ مفادات کونسل نے مئی 2017 میں فلڈ پروٹیکشن پلان کی منظوری دی تھی۔ماہانہ ڈیویلپمنٹ آؤٹ لک کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران زرعی شعبے میں 2.9 فیصد، خدمات کے شعبے میں 4.1 فیصد جبکہ صنعتی شعبے میں 3.5 فیصد شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔ اسی عرصے میں ترسیلاتِ زر میں 8.6 فیصد اضافہ ہوا اور وہ 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔گزشتہ مالی سال کے دوران اشیا اور خدمات کی مجموعی برآمدات 40.9 ارب ڈالر رہیں جبکہ خدمات کے شعبے کی برآمدات میں 18.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ان کا حجم 8.5 ارب ڈالر سے بڑھ کر 10 ارب ڈالر ہو گیا۔

ماہانہ ڈیویلپمنٹ آؤٹ لک کے اجرا کے موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا میں سپلائی چین متاثر ہے اور پاکستان بھی اس سے متاثر ہوا ہے جس کے باعث بعض مشکل فیصلے کرنا پڑے ۔ ان کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتوں کے حوالے سے حکومت ذمہ داری کے ساتھ فیصلے کر رہی ہے ۔ ملک کی معیشت کی بہتری کے لیے مقبول نہیں بلکہ بہتر فیصلے کرنا ضروری ہیں جبکہ تیل کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ اور بین الاقوامی حالات کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر تنازعات کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے ۔ گزشتہ مالی سال کے دوران 3.7 فیصد جی ڈی پی شرح نمو حاصل کی گئی جبکہ اگر خطے کی صورتحال بہتر ہوتی تو شرح نمو 4 فیصد تک پہنچ سکتی تھی۔

احسن اقبال نے کہا کہ 10 سال بعد سٹینڈرڈ اینڈ پورز نے پاکستان کی ریٹنگ منفی سے مثبت کی ہے جبکہ دیگر کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے بھی پاکستان کی درجہ بندی بہتر کی ہے ۔ ان کے مطابق بین الاقوامی ادارے اس وقت پاکستان کی معاشی بہتری کو تسلیم کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے ذریعے قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا مسلسل جائزہ لیا گیا، مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں رہی اور افراطِ زر بے قابو نہیں ہوا۔ آئندہ بھی مہنگائی کو سنگل ڈیجٹ میں رکھنے کی کوشش جاری رہے گی۔وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ ایران۔

امریکہ جنگ کے باعث ترسیلاتِ زر متاثر ہونے کا خدشہ تھا تاہم جنگ کے باوجود ترسیلاتِ زر میں بہتری دیکھنے میں آئی۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات کے ذریعے شرح نمو 6 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ سی ڈی ڈبلیو پی سے گزشتہ مالی سال منظور ہونے والے منصوبوں سے 3 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ۔ اسلام آباد کے گورننس ماڈل میں تبدیلی لائی جا رہی ہے اور وزارتِ منصوبہ بندی اس حوالے سے کام کر رہی ہے تاکہ وفاقی دارالحکومت میں مؤثر عوامی طرزِ حکمرانی قائم کی جا سکے ۔

احسن اقبال نے مزید بتایا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن ( کو ایک فریم ورک بھیجا گیا ہے جس کے تحت ایسی ڈگریوں کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا جن کا عملی یا معاشی آؤٹ پٹ نہیں جبکہ ایسے مضامین کو نصاب کا حصہ بنایا جائے گا جو ملک کی ضروریات کے مطابق ہوں۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کا ترقیاتی ماڈل اور اڑان پاکستان پروگرام کے اہداف ایک جیسے ہیں۔ پاکستان نے برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے ۔ احسن اقبال نے بھارت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ آبی دہشت گردی کر رہا ہے اور پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...