ایران پر کسی بھی وقت بڑا حملہ : امریکا، اسرائیل کی منصوبہ بندی، جس ملک نے تعاون کیا وہ جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آجائیگا: ایرانی فوجی سربراہ، امریکی شہریوں کو مشرق وسطیٰ سے نکلنے کی ہدایت

ایران پر کسی بھی وقت بڑا حملہ : امریکا، اسرائیل کی منصوبہ بندی، جس ملک نے تعاون کیا وہ جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آجائیگا: ایرانی فوجی سربراہ، امریکی شہریوں کو مشرق وسطیٰ سے نکلنے کی ہدایت

بہت سخت حملہ کریں گے ، ایک موڑ پر ایران کہے گا کہ ہم اب مزید برداشت نہیں کر سکتے :ٹرمپ ، محکمہ جنگ صدر کی ہدایات پر عمل کرنے کیلئے مکمل طور پر تیار :پینٹا گون پاور پلانٹس ،ریفائنریوں سمیت توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا امکان، وائٹ ہاؤس کے کچھ معاونین کی مخالفت،ٹرمپ نے حملوں کیلئے حتمی حکم نہیں دیا :ذرائع

واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں ، مانیٹرنگ سیل )امریکا اور اسرائیل ایران میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے اہداف پر اب تک کی سب سے شدید بمباری کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جس کے تحت کسی بھی وقت حملے ممکن ہیں۔یہ بات متعدد ذرائع نے سی بی ایس نیوز کو بتائی ۔ ابتدائی طور پر کچھ بات چیت ہوئی تھی کہ پیر کے روز مالیاتی منڈیاں کھلنے سے پہلے ہی یہ کارروائی مکمل کرنے کی کوشش کی جائے ، کیونکہ اس خدشے کا اظہار کیا گیا تھا کہ ان بمباریوں کا امریکی اور عالمی معیشت پر کیا اثر پڑے گا، لیکن اختتامی وقت کا حتمی تعین نہیں کیا گیا تھا۔ امریکی ذرائع کے مطابق، اسرائیلیوں کو مطلع کر دیا گیا ہے اور وہ امریکا کے ساتھ مل کر کوآرڈینیشن کر رہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے ابھی تک ان حملوں کے لیے حتمی حکم نہیں دیا۔

ایک اسرائیلی عہدیدار نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ اسرائیل مکمل فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے کسی فیصلے سے بے خبر ہے ، اور نہ ہی اسرائیل سے ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں شامل ہونے کی درخواست کی گئی ہے ۔بعد میں بریفنگ حاصل کرنے والے ذرائع کے مطابق، اس فوجی حملے کا منصوبہ جمعہ کو کیمپ ڈیوڈ میں صدر ٹرمپ کی کابینہ کے اجلاس کے دوران سامنے آیا۔ ذرائع میں سے ایک نے بتایا کہ سیاست پر توجہ مرکوز کرنے والے کچھ وائٹ ہاؤس کے معاونین نے اس کی شدید مخالفت کی۔ ٹرمپ نے کہا ہم ان پر بہت سخت حملہ کریں گے۔ ایک موڑ پر، وہ کہیں گے ، ہم اب اسے مزید برداشت نہیں کر سکتے۔ جب ان سے سفارت کاری کو دوبارہ بحال کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے پریس کو بتایا، مجھے لگتا ہے کہ ہم صرف جیتنا چاہتے ہیں۔

دو ذرائع نے بتایا کہ پاور پلانٹس اور ریفائنریوں سمیت توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کا امکان ہے ۔پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنیل نے کہا کہ پینٹاگون صدر کے حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے اہداف پر کوئی تبصرہ نہیں کرے گا۔پارنیل نے ایک بیان میں کہا، محکمہ جنگ مکمل طور پر تیار ہے اور لمحہ بہ لمحہ صدر کی ہدایات پر عمل کرنے کے لیے تیار ہے ۔ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ جب اس ہفتے کے شروع میں ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی ملاقات ہوئی، تو نیتن یاہو نے انہیں جنگ کے تین آپشنز کے بارے میں بریفنگ دی، جن میں زمین کی رسد کے راستوں پر مرکوز فوجی حملے شامل تھے ۔ نیتن یاہو نے وزیر دفاع ہیگسیتھ سے بھی ملاقات کی۔ جمعہ کو تہران بھر میں بجلی کاٹنے کے بارے میں اعلیٰ سطح پر امریکی بات چیت ہوئی تھی، لیکن جمعہ کی دوپہر تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ ایرانی فوج نے ہفتے کے روز امریکا پر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کیا ہے۔

ایرانی فوج کے سینٹرل کمانڈ کے سربراہ علی عبداللہی نے کہا امریکا خطے میں کشیدگی بڑھانے کی راہ پر تیزی سے گامزن ہے ۔ مجرم اور جارح امریکا سے تعاون اور اسکی دفاعی ڈھال بننے والا کوئی بھی ملک جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ مشرقِ وسطیٰ کے متعدد دارالحکومتوں میں قائم امریکی سفارت خانوں نے امریکی شہریوں کو علاقائی تنازع میں "غیر متوقع اضافے " سے خبردار کرتے ہوئے انہیں علاقہ چھوڑنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے ۔عمان، یروشلم اور بغداد میں امریکی سفارتی مشنز کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے گئے سکیورٹی الرٹ کے مطابق خطے میں موجود امریکی شہری علاقہ چھوڑنے پر غور کریں، یا صورتحال میں مزید تناؤ ہونے کی صورت میں فوری نکلنے کے لیے تیار رہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...