نواز شریف سے شہباز شریف، مریم، ڈار کی ملاقات، سیاسی صورتحال پر مشاورت : محسن نقوی سسٹم میں تبدیلی اپنی وزارت سے شروع کریں : خواجہ آصف

نواز شریف سے شہباز شریف، مریم، ڈار کی ملاقات، سیاسی صورتحال پر مشاورت : محسن نقوی سسٹم میں تبدیلی اپنی وزارت سے شروع کریں : خواجہ آصف

نیشنل ایکشن پلان کے 13 میں سے 12 نکات وزارت داخلہ کی ذمہ داری جن پر عملدرآمد نہیں ہوا، نظام میں تبدیلی کا آئینی فورم پارلیمنٹ اور کابینہ:وزیر دفاع سیاست،رئیل ا سٹیٹ سے وابستہ افراد کا پرتگال میں کاروبار،منی لانڈرنگ کے سہولت کار،خون خرابہ کر نیوالوں کو بیرون ملک سے فنڈنگ آتی:خطاب،ایکس پر بیان

لاہور(اپنے نامہ نگارسے ،دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک)مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف سے وزیراعظم شہبازشریف ، وزیراعلیٰ مریم نواز ، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ملاقات کی ، رائیونڈ میں ہونے والی ملاقات میں ملک کی مجموعی اور سیاسی صورتحال پر مشاورت کی گئی۔بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے حمزہ شہباز کے ہمراہ سابق رکن پنجاب اسمبلی ماجد ظہور کی رہائشگاہ کا دورہ کیا اور ان کی والدہ کے انتقال پر دلی تعزیت اور افسوس کا اظہار اور فاتحہ خوانی کی۔ دریں اثنا وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا محسن نقوی نے نظام کی خامیوں کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور وہ ذاتی طور پر بڑی حد تک ان خیالات سے اتفاق کرتے ہیں، تاہم ضروری ہے کہ محسن نقوی اصلاحات کا آغاز اپنی وزارت سے کریں۔

سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا میں خود بھی ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے محسوس کرتا ہوں کہ ملک کے نظام کا ارتقائی عمل کئی دہائیوں سے گروہی اور ذاتی مفادات کی نذر رہا ہے ، جسے ان مفادات سے آزاد کرانے کی ضرورت ہے ۔ اگر نظام کو مضبوط بنانا اور بنیادی تبدیلی لانا مقصود ہے تو اس کا آئینی فورم پارلیمنٹ ہے ، جس کے محسن نقوی رکن ہیں، یا پھر اس معاملے پر وفاقی کابینہ میں بھی بات کی جا سکتی ہے ۔ اس سے نہ صرف پارلیمنٹ اور کابینہ جیسے ادارے مضبوط ہوں گے بلکہ تبدیلی بھی آئینی عمل کے ذریعے آئے گی۔خواجہ آصف نے کہاکہ محسن نقوی وفاقی کابینہ کے ایک باوقار اور معتبر رکن ہیں اور وہ وقتاً فوقتاً پارلیمنٹ اور کابینہ کے اجلاسوں میں بھی شرکت کرتے ہیں۔ا

نہوں نے مزید کہاکہ ان اداروں کو غیر مؤثر بنا کر ملک کی معزز کاروباری برادری کے سامنے ایسی اہم باتیں کرنا وہ وزن نہیں رکھتا جو متعلقہ آئینی فورمز پر بات کرنے سے حاصل ہوتا ہے ۔وزیر دفاع نے کہاکہ محسن نقوی گزشتہ ساڑھے تین برس سے نظام کے طاقتور ترین عہدوں پر فائز ہیں، اگر وہ چاہتے تو اس عرصے میں نظام میں تبدیلی کے معاملے کو آگے بڑھا سکتے تھے ، تاہم دیر آید، درست آید۔خواجہ آصف نے کہاکہ گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر نے نیشنل ایکشن پلان کے 13 نکات کا ذکر کیا تھا، جن میں سے ایک نکتے پر، جو مسلح افواج کی ذمہ داری تھی، افواج نے اپنی قربانیوں کے ذریعے عملدرآمد کیا، جبکہ باقی 12 نکات وزارتِ داخلہ کی ذمہ داری ہیں، جن پر اب تک عملدرآمد نہیں ہو سکا۔انہوں نے محسن نقوی پر زور دیا کہ نظام میں تبدیلی کا آغاز نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے کریں اور اپنی وزارت سے اصلاحات کی ابتدا کریں۔

خواجہ آصف نے کہاکہ صرف کاروباری برادری ہی نہیں بلکہ پوری قوم اس مقصد میں ان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پراپنے ایک اور بیان میں کہا کہ سیاست اور رئیل اسٹیٹ سے وابستہ افراد نے پرتگال میں کاروبار قائم کر رکھے ہیں، جن کے ذریعے پاکستان سے منی لانڈرنگ کی سہولت فراہم کی جارہی ہے ۔ انہی کاروباروں کے ذریعے شہریت کے حصول میں سہولت فراہم کرنے کیلئے دستاویزات بھی مہیا کی جاتی ہیں۔مزید برآں ایل اے 36 جموں 3کے سرحدی دیہات میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا میں کشمیری ہوں لیکن ہم نے قربانی نہیں دی ،میرا ان سے کیا تقابل ہے جن کے آباؤاجداد نے اپنی جانیں قربان کیں، گھر بیٹھے آزادی ملنے والے ایکشن کمیٹی بنا کر آج خون خرابہ کر رہے ہیں، ان کو بیرون ملک سے فنڈنگ آتی ہے ، ہمارے مہاجرین کا آزاد کشمیر سے خون کا رشتہ ہے ۔ مجھے راولا کوٹ کا آج بھی طعنہ دیا جاتا ہے ، میں نے کہا تھا ہو سکتا ہے وہ بھی کشمیری ہوں، میں نے جو بھی کشمیر کے حوالے سے بیانات دئیے ہیں میں آج بھی ان پر کھڑا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...