نئے صوبوں کے قیام پر سیاسی مفاہمت ممکن ہو پائے گی

 نئے صوبوں کے قیام پر سیاسی مفاہمت ممکن ہو پائے گی

ریفرنڈم کا آپشن کارگرہو گا،ن لیگ واضح موقف کیوں نہیں دے رہی

(تجزیہ:سلمان غنی)

 ملک میں گورننس کے ساتھ نئے صوبوں کے قیام کی بحث زور پکڑ رہی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نئے صوبے بہتر حکمرانی، انتظامی استعداد اور عوامی نمائندگی مضبوط کرتے ہیں تو اس پر سنجیدگی سے غور بھی ہونا چاہئے اور اس پر پیش رفت بھی کی جانی چاہئے البتہ ان کا زور ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ صرف سیاسی نعرہ نہیں بلکہ قومی اتفاق رائے آئینی طریقہ کار اور انتظامی ضرورت کی بنیاد پر طے ہونا چاہئے اس لئے کہ وسیع تر مفاہمت کے بغیر یہ ممکن نہیں۔ مسلم لیگ ن اس پر مصلحتوں کا شکار نظر آ رہی ہے اور واضح موقف نہیں دے رہی البتہ پیپلز پارٹی کھل کر اس کی مخالفت میں سرگرم ہے اور بڑا سوال یہی ہے کہ کیا نئے صوبے قومی ضرورت ہیں اس پر پیش رفت ہو پائے گی اور اگر ہونی ہے تو کیسے ہو گی ویسے تو اس حوالہ سے آئین بڑا واضح ہے کہ کسی بھی ایشو پر آئین میں ترمیم کے لئے دو تہائی اکثریت درکار ہے اور نئے صوبوں کے ایشو پر تو موجودہ صوبوں میں بھی اس ضمن میں دو تہائی سے قرارداد درکار ہو گی کیا ایسا ممکن بن پائے گا تو ابھی ایسا ممکن نظر نہیں ا ٓرہا یہی وجہ ہے کہ فیصلہ ساز حلقوں اور ریاست کے ذمہ داروں کی جانب سے عوام سے رجوع کی بات کی جا رہی ہے مطلب کہ اگر پارلیمنٹ کے ذریعہ یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا تو اس ضمن میں ریفرنڈم کروایا جا سکتا ہے جو آئینی آپشن ہے اور اس حوالہ سے وہ سوال کیا ہو گا جو ریفرنڈم کی بنیاد بنے ویسے تو اطلاعات یہ ہیں کہ نئے صوبوں کے بارے میں ریفرنڈم پر غور خوض جاری ہے جس میں بنیاد گورننس کی عمل کو بنایا جا سکتا ہے موجودہ صورتحال میں نئے صوبوں کی بات کو سنجیدگی سے کیا جا رہا ہے اور اس کی وجہ ملک میں گورننس کو یقینی بنانا اہم ہے یہ تاثر عام ہو رہا ہے کہ گورننس یقینی نہیں بن پا رہی اور ملک میں مسائل بڑھ رہے ہیں ۔

حکومتوں کی کار کردگی قابل اطمینان نہیں اس میں تو شک نہیں کہ ملک میں جمہوریت تو ہے مگر اس کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچ پا رہے اور کوئی خود کو جوابدہ بھی نہیں سمجھتا ۔ اب تو اس حوالہ سے عالمی میڈیا میں ایسے آرٹیکل نظر آ رہے ہیں کہ باوجود اس کے پاکستان کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہے مگر یہاں گورننس کا فقدان ہے معیشت مضبوط نہیں بن پا رہی اور مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔جہاں تک پیپلز پارٹی کی جانب سے نئے صوبوں کی مخالفت کا تعلق ہے تو پیپلز پارٹی کا پاور بیس سندھ ہے اور اگر نئے صوبوں کا قیام ممکن بنتا ہے تو کراچی صوبہ بنے گا جو پیپلز پارٹی کبھی ہضم نہیں کر سکتی پیپلز پارٹی کسی قیمت پر سندھ کی تقسیم نہیں چاہتی ۔ن لیگ براہ راست صوبوں کے قیام کی مخالفت نہیں کرتی اس کی وجہ اس کی اپنی حکومت ہے اور وہ مشروط طور پر یہ تجویز قبول کر سکتی ہے لیکن وہ اس حوالہ سے پیپلز پارٹی کی طرف دیکھ رہی ہے ۔پیپلز پارٹی نئے صوبوں کے قیام پر جنوبی پنجاب صوبہ کی تو حامی ہے مگر سندھ میں نئے صوبے کی مخالف ہے ویسے بھی دیکھا جائے تو فیصلہ ساز گورننس کی بنیاد پر نئے صوبوں کے حامی ہیں اور سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے نہیں ہر جماعت کی اپنی علاقائی اور سیاسی ترجیحات ہیں مگر ریاست کو اس وقت معیشت، امن و امان اور دیگر چیلنجز درپیش ہیں جن میں آبادی میں اضافہ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مقامی سطح پر فیصلہ سازی کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے جو چھوٹے یونٹ بنا کر ہی حل ہو سکتی ہے لیکن کیا ان پر پیش رفت ہو گی تو یہ عمل سیاسی مفاہمت سے مشروط ہے اور اگر مقصد بہتر حکمرانی اور انتظامی کارکردگی ہے تو اس پر سنجیدہ مکالمہ کی ضرورت ہے کچھ حلقوں کے نزدیک یہ کام اتنا آسان نہیں اور نہ زور زبردستی سے ممکن ہے ۔سیاسی اعتبار سے ریفرنڈم پر اتفاق رائے آسان نہیں اور اس عمل پر بھی بہت سوچ بچار کرنا پڑے گا کیونکہ ریفرنڈم کے باوجود بھی آئینی طریقہ کار مکمل کرنا ضروری ہو گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...