چین سے 1.3ارب ڈالر ری فنانسنگ جلد مکمل کرنیکی درخواست

 چین سے 1.3ارب ڈالر ری فنانسنگ جلد مکمل کرنیکی درخواست

ری فنانسنگ کی شرائط کوجلد حتمی شکل دینے کیلئے پاکستانی وچینی حکام مسلسل رابطے میں 1.3 ارب ڈالر رواں ماہ موصول ہونیکی توقع، آئندہ معاشی دباؤ کم رہنے کا امکان

اسلام آباد (مدثر علی رانا)باؤثوق ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے چین سے 1.3 ارب ڈالر کی ری فنانسنگ کے عمل کو جلد مکمل کرنے کی باضابطہ  رخواست کر دی ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کو امید ہے کہ یہ رقم رواں ماہ موصول ہونے سے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملے گا اور بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔ذرائع کے مطابق پاکستانی اور چینی حکام کے درمیان ری فنانسنگ کی شرائط کو حتمی شکل دینے کے لیے مسلسل رابطے جاری ہیں۔ توقع ہے کہ ٹرمز اینڈ کنڈیشنز جلد طے ہونے کے بعد رقم اسی ماہ پاکستان کو موصول ہو جائے گی۔ دنیا نیوز نے اس پیشرفت پر گورنر سٹیٹ بینک کا مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا تاہم خبر فائل ہونے تک جواب موصول نہیں ہو سکا۔ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق گزشتہ ماہ جولائی میں پاکستان نے 2.2 ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں کیں جن میں 1.3 ارب ڈالر چینی کمرشل قرض جبکہ 80 کروڑ ڈالر دیگر بیرونی واجبات کی مد میں ادا کیے گئے ۔ رواں مالی سال 2026-27 میں مجموعی بیرونی ادائیگیوں کا تخمینہ 21.5 ارب ڈالر ہے جن میں سے جولائی کی ادائیگیاں مکمل ہو چکی ہیں۔

ذرائع کے مطابق سٹیٹ بینک گزشتہ تین برسوں میں انٹربینک مارکیٹ سے 28 ارب ڈالر خرید چکا ہے جبکہ رواں مالی سال مزید 7 ارب ڈالر سے زائد خریدنے کی توقع ہے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط کیے جا سکیں اور بیرونی ادائیگیوں میں سہولت رہے ۔چین کے 4 ارب ڈالر کے ڈیپازٹ کو دسمبر 2026 میں رول اوور کرنا ہوگا جبکہ سعودی عرب پہلے ہی اپنے 8 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس کو طویل مدت کے لیے رول اوور کر چکا ہے ۔ ذرائع کے مطابق رواں مالی سال مجموعی 12 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس رول اوور ہوں گے جبکہ 3 ارب ڈالر کی کمرشل ری فنانسنگ بھی حاصل کی جائے گی۔ اس کے بعد تقریباً 7 ارب ڈالر کی ادائیگیاں باقی رہ جائیں گی جن میں سے 2.2 ارب ڈالر پہلے ہی ادا کیے جا چکے ہیں۔ یوں آئندہ گیارہ ماہ میں تقریباً 5 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنا ہوں گی جن میں لگ بھگ 3.5 ارب ڈالر سود کی ادائیگیاں شامل ہیں۔گزشتہ ہفتے گورنر سٹیٹ بینک نے کہا تھا کہ آئندہ گیارہ ماہ کے دوران بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ نسبتاً کم رہے گا۔

ان کے مطابق رواں مالی سال بیرونی قرضوں کی ادائیگی کا مجموعی بوجھ 21.5 ارب ڈالر ہے جو گزشتہ مالی سال کے 26.5 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے ۔ عالمی سطح پر شرح سود میں کمی سمیت مختلف عوامل کے باعث قرضوں کی ادائیگی کی لاگت بھی کم ہوئی ہے۔ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق جولائی کے آغاز میں سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے تھے تاہم چینی کمرشل قرض اور دیگر واجبات کی ادائیگی کے بعد ان میں کمی آئی۔ توقع ہے کہ چین سے 1.3 ارب ڈالر کی ری فنانسنگ موصول ہونے کے بعد ذخائر میں دوبارہ اضافہ ہوگا۔ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے عالمی اور ملکی معاشی صورتحال کے پیش نظر زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے اور مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنے کی ہدایات دی ہیں۔ اسی حکمت عملی کے تحت سٹیٹ بینک رواں مالی سال بھی ڈالر خریدتا رہے گا تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں یا دیگر بیرونی معاشی جھٹکوں کے اثرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...