صحافت مقدس پیشہ ،فیک نیوز کی روک تھام ناگزیر :عظمیٰ بخاری
کسی کی پگڑی اچھالنا صحافت نہیں، ملک دشمن بیانیہ پھیلانے کی اجازت نہیں دینگے صحافتی تنظیمیں خود ڈسپلنری کمیٹیاں بنائیں :سی پی این ای کی تقریب سے خطاب
لاہور(سٹاف رپورٹر،نیوزایجنسیاں )وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ صحافت ایک مقدس، ذمہ دار اور باوقار پیشہ ہے ، جبکہ جھوٹ اور پروپیگنڈا پھیلانے والا یوٹیوبر صحافی نہیں ہو سکتا۔ فیک نیوز اور بے بنیاد الزامات کی روک تھام وقت کی اہم ضرورت ہے ، کسی کی پگڑی اچھالنا اظہارِ رائے نہیں بلکہ کردار کشی ہے ۔ پاکستان میں ڈیجیٹل میڈیا کو غیر معمولی آزادی حاصل ہے جس کے ساتھ ذمہ داری بھی لازم ہے۔ صحافتی تنظیموں کو اپنی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں کی نشاندہی کرتے ہوئے خود احتسابی اور ڈسپلنری نظام قائم کرنا ہوگا تاکہ غلط کو غلط اور درست کو درست کہا جا سکے۔ ہر شخص موبائل اور مائیک اٹھا کر صحافی نہیں بن جاتا، صحافی کا کوئی سیاسی لیڈر نہیں ہوتا بلکہ وہ صرف صحافی ہوتا ہے۔
بیرونِ ملک بیٹھ کر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے عناصر صحافت کے نام کو نقصان پہنچا رہے ہیں جبکہ جھوٹ کو سچ بنا کر ڈالر کمانے والوں کو ہیرو نہیں بنایا جانا چاہیے ۔ کسی کوبھی ملک دشمن بیانیہ پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ،پنجاب حکومت صحافیوں کی فلاح و بہبود اور صحافت کے فروغ کے لیے اپنا تعاون جاری رکھے گی۔ وہ سی پی این ای کی تقریب سے خطاب کررہی تھیں ۔اس موقع پر ڈی جی پی آر شیخ فرید احمد،صدر سی پی این ای کاظم خان اور دیگر اراکین بھی موجود تھے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صحافتی برادری کی مشاورت سے صحافی کی جامع تعریف، میڈیا ایکریڈیٹیشن، میڈیا لسٹوں اور اخبارات سے متعلقہ امور کا ازسرِنو جائزہ لے رہی ہے تاکہ یہ نظام مزید شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔
صحافتی تنظیمیں اگر خود احتسابی کا مؤثر نظام تشکیل دے دیں اور غلط معلومات پھیلانے والوں کے خلاف خود کارروائی کریں تو حکومت کو سخت قوانین یا دیگر اقدامات کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں خبر متعدد مراحل سے گزر کر شائع یا نشر ہوتی ہے ، جبکہ سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق کے معلومات پھیلائی جا رہی ہیں جس سے افراد، اداروں اور قومی مفاد کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ انہوں نے صحافتی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ پیشہ ور صحافت کے تحفظ، جعلی صحافت کے خاتمے اور قومی مفاد کے تحفظ کے لیے مشترکہ اور مؤثر لائحہ عمل اختیار کریں تاکہ صحافت کا وقار برقرار رہے اور معاشرے میں ذمہ دارانہ اطلاعات کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments