میر رضا کیس کی منصفانہ تفتیش، ہرمرحلے سے فیملی کو آگاہ کرینگے ،وزیراعلیٰ
جوڈیشل کمیشن پولیس اور میڈیکو لیگل کی کوتاہیوں کی نشاندہی کے لیے بنایا جا رہا تھا
کراچی(اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ میر رضا کیس کی منصفانہ تفتیش ہوگی اور ہر مرحلے سے فیملی کو آگاہ کیا جائے گا، کیس حل ہونے کے بعد پولیس اور میڈیکو لیگل کی کوتاہیوں پر کارروائی کرنا میرا کام ہے ۔ آرٹس کونسل میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ جوڈیشل کمیشن کیس کی تفتیش کے لیے نہیں بنا رہے تھے ، وہ پولیس کا کام ہے ، جوڈیشل کمیشن پولیس اور میڈیکو لیگل کی کوتاہیوں کی نشاندہی کے لیے بنایا جا رہا تھا۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ کمیشن بنانے سے پہلے انہوں نے وزیرداخلہ اور میئر کراچی کو میر رضا کے والدین کے پاس بھیجا اور انہوں نے بھی کہا تھا کہ ٹھیک ہے لیکن اگلے روز جب فیملی نے کہا کہ ہم جوڈیشل کمیشن نہیں چاہتے تو ہم نے ان کی رائے کا احترام کیا۔انہوں نے کہا کہ وہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ آئین میں صوبہ بنانے کا طریقہ کار موجود ہے ، سندھ اسمبلی صوبے کی تقسیم کے خلاف کئی قراردادیں منظور کرچکی ہے اور انہیں نہیں لگتا کہ موجودہ یا مستقبل کی اسمبلی میں کوئی نیا صوبہ بنانے کے لیے دو تہائی اکثریت حاصل کر سکتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام ہم پر بھروسہ رکھتے ہیں، میڈیا بھی بھروسہ رکھے ۔مراد علی شاہ نے کہا کہ پیپلزپارٹی پر الزام ہے ہمارا سندھ میں موقف الگ ہے ، پنجاب میں الگ لیکن ہم پنجاب میں صوبہ بنانے کی بات اس لیے کرتے ہیں کہ پنجاب اسمبلی نیا صوبہ بنانے کے لیے قراردادیں منظور کرچکی ہے ۔ ن لیگ کی حکومت سندھ پر تنقید کے حوالے سے سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب والوں کو اگر سندھ کی زیادہ فکر ہے تو آئینی طریقہ کار اختیار کریں، آئیں سندھ میں الیکشن لڑیں، اگر عوام نے سپورٹ کیا تو ان کی خدمت کریں ورنہ اپنی پارٹی سے کہیں کہ وفاقی حکومت کے ذریعے سندھ کی خدمت کریں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments