مکہ دفاعی معاہدے پر ایران کا اطمینان پاکستان کیلئے ناگزیر

مکہ دفاعی معاہدے پر ایران کا اطمینان پاکستان کیلئے ناگزیر

محسن نقوی ایرانی تحفظات کو سمجھتے اور سدباب کا طریقہ بھی جانتے ہیں

(تجزیہ: سلمان غنی)

امریکا ایران کے درمیان جنگ بندی کیلئے مفاہمتی عمل میں وزیرداخلہ محسن نقوی کا بھی اہم کردار ہے جنہیں بیرونی محاذ خصوصاً ایران میں حکومت کے ساتھ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی نمائندہ خیال کیا جاتا ہے ۔ایران کے حالیہ دورہ میں محسن نقوی نے ایرانی قیادت سے ملاقاتوں میں جہاں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خصوصی پیغام پہنچایاوہیں ایرانی لیڈرشپ کو مکہ مشترکہ معاہدہ کے خدوخال سے بھی آگاہ کیا اور علاقائی امن و استحکام میں اس کے کردار پر ایرانی لیڈر شپ کو اعتماد میں لیا ۔ پاکستان کی کوششوں سے ہی ایران اور امریکا میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت وجود میں آئی لیکن بعدازاں آبنائے ہرمز میں ہونے والے واقعات کی بنیاد پر پھر سے ڈیڈلاک سامنے آیا اور پھر ٹھہراؤ کی جگہ تناؤ نے لے لی۔

مفاہمتی عمل کی بحالی کے اب بھی امکانات موجود ہیں اور اس کی کامیابی کا انحصار ثالثی کیلئے جاری کوششوں پرہے ۔اگرچہ وزیردفاع خواجہ آصف کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ فریقین مفاہمتی عمل کی بحالی کے قریب تر ہیں مگر عملاً اس کا کوئی طے شدہ ٹائم ٹیبل نہیں۔ امریکی عہدیداران کا کہنا ہے کہ 80 سے 85 فیصد تک کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ ایران کا اصرار ہے جب تک امریکا جون 2026 کے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزیاں بند نہیں کرتا براہ راست مذاکرات ممکن نہیں۔ پاکستان کا کردار اس حوالے سے اہم ہے اور وزیرداخلہ محسن نقوی کا دورہ بھی اس تناظر میں ہے ،پاکستان ایران کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ ایران کا بہترین مفاد مذاکرات میں ہی ہے ۔پاکستان کی ثالثی نے ایک نازک صورتحال میں بھی امید کی کرن پیدا کی ہے اگر یہ سفارتی رفتار برقرار رہی تو مفاہمتی عمل کی بحالی ممکن بن سکتی ہے ۔امریکا آج بھی طاقتور ضرور ہے مگر خلیج فارس میں بے بس نظر آ رہا ہے اور ایران ٹرمپ کو راہ فرار فراہم نہیں کررہا۔

بلاشبہ ایران کا مالی و جانی نقصان بہت زیادہ ہے لیکن وہ اس جارحیت اور جنگ کے حوالے سے ایک لائن کھینچنے پر مصر ہے تاکہ امریکی جارحیت کا یہ سلسلہ ختم ہو اور اس پر امریکی تلوار لٹکتی نظر نہ آئے اب یہ ذمہ داری ثالثوں خصوصاً پاکستان پر ہے اور اطلاعات یہ ہیں کہ ایرانی لیڈر شپ پاکستان پر خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر پر اعتماد کرتی نظر آتی ہے اور امریکا چاہتا ہے کہ پاکستان کے ذریعہ کوئی ایسا راستہ بنے کہ فتح کا اعلان کرکے واپس مڑ جائیں۔ پاکستان اب بھی غیر جانبدارانہ کردار برقرار رکھنا چاہتا ہے ۔واقفان حال کا کہنا ہے کہ ایران پاکستان کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔ وہ اس کے احسانات کو بھی جانتا ہے اور مشکل صورتحال میں اس کے کردار کو بھی سراہتا نظر آتا ہے ۔ لہٰذا دیکھنا ہوگا کہ پاکستان کا ایران پر دباؤ کارگر ہوتا ہے اور مذاکراتی عمل کی بحالی کے ساتھ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کارگر بن سکتی ہے ،جہاں تک مکہ معاہدہ کے حوالے سے ایران کے تحفظات کا سوال ہے تو پاکستان نے ایرانی لیڈر شپ کو معاہدہ کے خدوخال پر اعتماد میں لیا ہے کیونکہ ایران کا اطمینان پاکستان کیلئے ناگزیر تھا ، پاکستان سعودی عرب سے مضبوط روابط کے ساتھ ایران کو ساتھ رکھنا اور ساتھ چلانا ضروری سمجھتا ہے کیونکہ پاکستان کسی لئے علاقائی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا اور یہ اعزاز وزیرداخلہ محسن نقوی ہے کہ وہ ایرانی تحفظات کو کافی حد تک سمجھتے ہیں اور ان کے سدباب کا طریقہ بھی جانتے ہیں ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...