ایرانی ایٹمی پروگرام سے زیادہ اب تیل قیمتوں کی فکر:امریکا

ایرانی  ایٹمی پروگرام سے زیادہ اب تیل قیمتوں کی فکر:امریکا

آبنائے ہرمز کے ذریعے آئل کی آزادانہ ترسیل ،امریکیوں کیلئے سستا تیل،گیس ترجیح:جے ڈی وینس ،تہران پر ایسی معاشی پابندیاں لگائیں گے جو دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھیں:امریکی وزیر خزانہ آبنائے ہرمز پر ہمارا کنٹرول:پاسداران انقلاب، جلد آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان کرونگا :ٹر مپ ،امریکی طیارہ بردار جہاز مشرق وسطٰی روانہ ،خلیج کشیدگی،فضائی آپریشن متاثر

واشنگٹن(اے ایف پی )امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکا کی اس وقت سب سے بڑی ترجیح ایران کے جوہری پروگرام کو روکنا نہیں بلکہ امریکی صارفین کیلئے تیل کی قیمتیں کم کرنا ہے ، دوسری جانب وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ تہران کو معاشی سزا دینے کیلئے نئی سخت پابندیاں جلد عائد کی جائیں گی،جبکہ فاکس نیوز کو انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ جلد آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان کریں گے ،انہوں نے کہا کہ امریکا ایران پر سخت معاشی دباؤ ڈالنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ تہران کو جنگ ختم کرنے پر مجبور کیا جا سکے ، وینس اور بیسنٹ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش نے ایران کو امریکا کے خلاف ایک مؤثر دباؤ کا ذریعہ فراہم کر دیا ہے ،صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کو جنگ کی بنیادی وجہ قرار دیتے رہے ہیں۔

تاہم وینس نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ اب ترجیح آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی آزادانہ ترسیل بحال کرنا ہے ،ان کے بیان سے یہ حقیقت بھی نمایاں ہوتی ہے کہ جنگ کا مرکز اب آبنائے ہرمز پر کنٹرول بن چکا ہے ، یہ اہم آبی گزرگاہ فروری کے آخر میں ٹرمپ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے سے پہلے معمول کے مطابق کھلی تھی،ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے تقریباً آبنائے ہرمز کو بند کر دیا، جس کے نتیجے میں اسے ٹرمپ کے خلاف ایک اہم مذاکراتی ہتھیار مل گیا ہے ، ٹرمپ جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں اور بڑے پیمانے پر دوبارہ حملے شروع کرنے سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں،80 سالہ صدر کی مقبولیت تیزی سے گر رہی ہے ، جنگ امریکی عوام میں غیر مقبول ہو چکی ہے اور نومبر میں وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں، ری پبلکنز کو خدشہ ہے کہ جنگ اور اس کے نتیجے میں پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں کانگریس پر ان کی گرفت ختم کر سکتی ہیں،وینس نے کہا میں جانتا ہوں کہ آج تیل کی قیمت کم ہے اور جنگ کے ابتدائی دنوں کی بلند ترین سطح سے کافی نیچے آ چکی ہے ، ہمارا پہلا مقصد یہی ہے کہ ملک بھر میں امریکیوں کیلئے تیل اور گیس سستی رکھی جائے ۔

انہوں نے مزید کہا ظاہر ہے کہ دوسرا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے ، ہم معاملہ بہت محتاط انداز میں آگے بڑھا رہے ہیں۔ نائب صدر وینس ان حکومتی عہدیداروں میں شامل رہے ہیں جو فروری کے آخر میں ایران کے خلاف شروع کیے گئے فوجی حملے کے بارے میں سب سے زیادہ محتاط رہے ہیں۔وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ تہران کو ایسی معاشی تنہائی کا سامنا کرنا پڑے گا جیسی دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ ان کے مطابق نئی پابندیوں اور اقدامات کا اعلان آئندہ ہفتے متوقع ہے ، سکاٹ بیسنٹ نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی برقرار رہے گی، جس کے باعث ایرانی بندرگاہوں سے نہ کوئی چیز اندر آسکے گی اور نہ ہی باہر جا سکے گی ، چند روز قبل ہی ٹرمپ نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کیلئے معاہدہ قریب ہے ۔ لیکن اب ان کی انتظامیہ سخت مؤقف اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے اور سفارتکاری فی الحال معطل ہے ۔ واشنگٹن کو امید ہے کہ شدید معاشی مشکلات ایران کو پسپائی پر مجبور کر دیں گی۔دوسری جانب اطلاعات کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد امریکی فوج نے کئی ماہ کے دوران اربوں ڈالر مالیت کے جدید میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں کے ذخائر بڑی مقدار میں استعمال کر لیے ہیں اور اب ان ذخائر میں کمی آ رہی ہے ۔

اس صورتحال نے ٹرمپ کیلئے ایران پر دوبارہ بڑے پیمانے کے حملے کے آپشنز محدود کر دئیے ہیں،وینس نے کہا کہ بعض اوقات امریکا کی توجہ توانائی کے مسئلے پر ہوتی ہے تاکہ امریکی عوام تیل اور گیس کی قیمتیں برداشت کر سکیں، جبکہ بعض اوقات توجہ فوجی کارروائی اور ایران کے جوہری پروگرام پر مرکوز ہوتی ہے ۔اب ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کیلئے کئی شرائط پیش کر دی ہیں جنہیں ٹرمپ انتظامیہ کیلئے قبول کرنا مشکل نظر آتا ہے ۔ایران کا مطالبہ ہے کہ تمام محاذوں پر جنگ ختم کی جائے ، ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم کی جائے ، پابندیاں اٹھائی جائیں، منجمد ایرانی اثاثے بحال کیے جائیں اور جنگ سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیا جائے ۔ جے ڈی وینس نے الزام عائد کیا کہ ایرانی بعض اوقات ایسے وعدے کرتے ہیں جنہیں وہ پورا نہیں کرتے ،میں پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس معاملے کا اختتام اس طرح ہو گا کہ امریکا زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہو گا، ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے ، اور آبنائے ہرمز کی صورتحال دوبارہ ایسی ہو جائے گی جہاں تیل اور گیس کی قیمتیں امریکی عوام کیلئے مستحکم رہیں۔

پاناما میں صحافیوں سے گفتگو کر تے ہوئے امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ وہ ایران کی بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے ، ضرورت کے مطابق بحری جہازوں کو خطے میں بھیجا اور واپس بلایا جا سکتا ہے ، دوسری طرف مریکی میڈیا کے مطابق امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن مشرق وسطٰی کی جانب روانہ ہوگیا ہے ،امریکی بحریہ کے عہدیدار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جہاز گزشتہ ہفتے ویتنام کے شہرڈا نانگ سے روانہ ہوا اور آبنائے ملاکاتک پہنچ گیا ہے ، امریکی طیارہ بردارجہازکا رخ بحرہند کی جانب ہے ، ادھر متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو آئل ٹینکروں پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بحری قزاقی کی کارروائی قرار دیا ہے ،متحدہ عرب امارات نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ابو ظہبی نیشنل آئل کمپنی سے وابستہ دو جہازوں کو نشانہ بنایا،تاحال ان جہازوں کو پہنچنے والے نقصان کی نوعیت کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں، ایران کی پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر ریئر ایڈمرل علی عظمائی نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہے اور اس کے ذریعے ہونے والی تمام نقل و حرکت پر ایران کا مکمل کنٹرول ہے ،تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ہونے والی کوئی بھی نقل و حرکت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے اہلکاروں کی نظروں سے اوجھل نہیں۔

ایرانی کمانڈر نے مزید کہا کہ حقیقت زمین پر موجود صورتحال سے دیکھی جانی چاہیے ، امریکی حکام کے اعلانات اور بیانات سے نہیں۔ علاوہ ازیں ا یرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف مجوزہ زمینی کارروائی کی سازش کو ابتدا ہی میں ناکام بنا دیا گیا تھا ،امریکا کو اس وقت تک نہیں بخشا جائے گا جب تک اسے مکمل شکست نہیں ہو جاتی، ایران امریکا کا اس کی مکمل شکست تک پیچھا کرتا رہے گا۔خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بگڑتی صورتحال کے باعث متحدہ عرب امارات سے بحرین، کویت اور بعض دیگر علاقائی مقامات کیلئے فضائی آپریشن شدید متاثر ہوا ہے ،عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات میں ایمریٹس، اتحاد ایئرویز، فلائی دبئی اور ایئر عریبیہ نے اپنی متعدد پروازوں کو منسوخ کردیا یا اس کے شیڈول میں تبدیلی کی ہے ، برٹش ایئرویز نے دبئی، تل ابیب، بحرین اور عمان کیلئے پروازیں 25 اکتوبر تک معطل رکھنے جبکہ دوحہ اور ریاض کیلئے پروازوں کی تعداد کم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...