بی ایل اے کی افغانستان میں ٹریننگ،اسلحہ سپلائی کی تصدیق

 بی ایل اے کی افغانستان میں ٹریننگ،اسلحہ سپلائی کی تصدیق

داعش خراسان کیساتھ لاجسٹک اور سہولت کاری نیٹ ورکس قائم ہے جاسوس ڈرونز، نائٹ ویژن آلات ،تھرمل امیجرز کی تربیت بھی دی جاتی امریکی ،نیٹوکا چھوڑااسلحہ دہشتگردوں کے ہاتھ لگ چکا:سلامتی کونسل کی رپورٹ

 اسلام آباد(دنیا نیوز ) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک تفصیلی رپورٹ میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے ) اور افغانستان میں فعال بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کے درمیان لاجسٹکس اور عملی تعاون کی تصدیق کی گئی ہے ۔ اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی ایل اے عالمی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ مل کر سہولت کاری کے نیٹ ورکس استعمال کر رہی ہے اور جدید ترین فوجی اثاثے حاصل کر رہی ہے ۔ اقوام متحدہ کو جمع کرائی گئی معلومات کے مطابق خطے کے رکن ممالک نے تصدیق کی ہے کہ بی ایل اے اور داعش-خراسان (ISIL-K) کے درمیان مشترکہ لاجسٹک اور سہولت کاری کے نیٹ ورکس قائم ہیں۔

سکیورٹی حکام اور بین الاقوامی تجزیوں کے مطابق 2021 میں افغانستان سے انخلا کے وقت چھوڑا جانے والا نیٹو اور امریکی ساختہ اسلحہ براہ راست بی ایل اے کے دہشتگردوں کے ہاتھ لگ چکا ہے ۔ رکن ممالک کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں موجود نیٹ ورکس بی ایل اے کو جدید ترین تکنیکی سامان فراہم کر رہے ہیں جن میں جاسوس ڈرونز، نائٹ ویژن آلات اور تھرمل امیجرز شامل ہیں جبکہ انہیں شہری علاقوں میں جنگ اور ڈرون کے استعمال کی تربیت بھی دی جا رہی ہے ۔ بی ایل اے کے دہشتگرد ان جدید آلات بشمول ڈرونز اور امریکی ساختہ چھوٹے ہتھیاروں جیسے کہ M4 اور M16 رائفلوں کو پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں اور معصوم شہریوں پر حملوں میں استعمال کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی دستاویز میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ افغان سرزمین پر موجود القاعدہ کے ہینڈلرز بی ایل اے کے دہشتگردوں کو براہ راست عسکری تربیت فراہم کر رہے ہیں۔ رکن ممالک کی رپورٹس سے تصدیق ہوئی ہے کہ بی ایل اے کے دہشت گردوں کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ مل کر افغان کیمپوں میں تربیت دی گئی۔ اس اعتراف سے سرحد پار متحرک مختلف عسکریت پسند گروہوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کی نشاندہی ہوتی ہے ۔ رپورٹ میں سرحد پار سے درپیش سکیورٹی چیلنجز اور عسکریت پسندانہ حملوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور کہا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کے باوجود، افغانستان میں بچ جانے والے جدید عسکری سامان کی موجودگی ان دہشتگرد عناصر کی عملی صلاحیتوں اور کارروائیوں کو برقرار رکھنے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...