جیکب آباد:120گھر جلانے کے کیس میں اہم قانونی موڑ

جیکب آباد:120گھر جلانے کے کیس میں اہم قانونی موڑ

19 اگست کوسنایا جائیگا، ٹھل میں پسند کی شادی پر120 گھروں کوآگ لگائی گئی تھی

جیکب آباد (آن لائن)جیکب آباد کی تحصیل ٹھل میں پسند کی شادی کے تنازع پرگاؤں کے 120 گھروں کو نذرِ آتش کرنے کے سنگین مقدمے میں اہم قانونی پیش رفت سامنے آگئی۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) شکارپور نے ایف آئی آر میں دو سرداروں کے نام شامل کرنے سے متعلق درخواست پر فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ 19 اگست تک محفوظ کرلیا۔ کچھ عرصہ قبل ٹھل کے تھانہ میرپور برڑو کی حدود میں واقع قصبہ محمد صدیق آرائیں میں مبینہ طور پر کورٹ میرج کے معاملے پر مسلح افراد نے دھاوا بول دیا تھا، جس کے نتیجے میں تقریباً 120 گھروں کو آگ لگا دی گئی اور بڑی تعداد میں خاندان متاثر ہوئے تھے ۔

واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا جبکہ متاثرین نے انصاف اور تحفظ کا مطالبہ کیا تھا۔مقدمے کی ایف آئی آر میں سردار صدام حسین برڑو اور سردار احمد علی خان چنہ کے نام شامل نہ کئے جانے پر مدعی کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی عدالت شکارپور سے رجوع کیا گیا اور درخواست دائر کی گئی کہ دونوں سرداروں کے نام بھی مقدمے میں شامل کئے جائیں۔درخواست کی سماعت کے دوران عدالت میں فریقین کے وکلا نے اپنے دلائل پیش کیے ۔ دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے درخواست پر فیصلہ 19 اگست تک محفوظ کرلیا۔اب تمام نظریں 19 اگست کو اے ٹی سی کورٹ شکارپور کی جانب سے سنائے جانے والے فیصلے پر مرکوز ہیں کہ عدالت درخواست منظور کرکے دونوں سرداروں کے نام مقدمے میں شامل کرنے کا حکم دیتی ہے یا اسے مسترد کرتی ہے ، اس کے بعد مقدمے کی آئندہ قانونی سمت بھی واضح ہونے کی توقع ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...