بدین:پسند کی شادی کا تنازع،60گھر مسمار،600افراد کی نقل مکانی

بدین:پسند کی شادی کا تنازع،60گھر مسمار،600افراد کی نقل مکانی

جیکب آباد کے بعد گولارچی کے چک 5میں مسلح افراد نے ماچھی برادری کاگاؤں خالی کرالیا، لاکھوں کا سامان، مویشی لے گئے ندیم ماچھی اور عالیہ کی پسند کی شادی پرمعاملہ اٹھا، درخواستوں کے باوجود پولیس نے کارروائی نہ کی،متاثرین،الزاما ت بے بنیاد،پولیس

بدین، پنگریو (نمائندگان)جیکب آباد کے بعد بدین میں بااثر افراد نے حکومتی رٹ کو چیلنج کردیا، جہاں پسند کی شادی کے تنازع پر گولارچی کے چک نمبر 5 میں مبینہ طور پر مسلح افراد نے ماچھی برادری کے 60 سے زائد گھروں کو مسمار کرکے پورا گاؤں خالی کرا لیا۔ متاثرین کے مطابق مسلح افراد گھروں سے لاکھوں روپے مالیت کا سامان اور مویشی بھی اپنے ساتھ لے گئے جبکہ واقعے کے باعث 600 سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق ندیم ماچھی اورعالیہ فاطمہ نے چند روز قبل پسند کی شادی کی تھی،جس کے بعد تنازع پیدا ہوا،پسند کی شادی کرنے  والے جوڑے کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی سے شادی کی، لیکن اس کی سزا پورے گاؤں کو دی جا رہی ہے ۔متاثرین کے مطابق انہوں نے ایس ایس پی بدین کو 12 درخواستیں بھی دیں،تاہم کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ متاثرین کے مطابق چند روز قبل مسلح افراد نے چک نمبر 5 میں ماچھی برادری کے گھروں کو مبینہ طور پر نشانہ بنایا اور متعدد مکانات کو نقصان پہنچایا۔ ان کا کہنا ہے کہ گھروں میں موجود گھریلو سامان اور مویشی بھی مبینہ طور پر ملزمان اپنے ساتھ لے گئے ، جس کے بعد بڑی تعداد میں خاندان نقل مکانی کرکے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور ہوئے ۔متاثرین نے الزام عائد کیا کہ پسند کی شادی کے تنازع کی سزا صرف شادی کرنے والے جوڑے تک محدود رکھنے کے بجائے پوری برادری کو دی جارہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین، بچے اور بزرگ شدید مشکلات سے دوچار ہیں اور انہیں اپنے گھروں سے محرومی کے باعث رہائش، خوراک اور تحفظ کے مسائل کا سامنا ہے ۔

ماچھی برادری کے متاثرین نے پولیس پر مبینہ جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، متاثرہ خاندانوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور گھروں کو نقصان پہنچانے اور سامان لے جانے میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے ۔ادھر ڈسٹرکٹ پولیس بدین نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی گھروں کو آگ لگانے اور سامان لوٹنے سے متعلق اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا ہے ۔ پولیس کے مطابق تقریباً ایک ماہ قبل ندیم ماچھی نے اپنے زمیندار کی بیٹی عالیہ فاطمہ کمبوہ سے پسند کی شادی کی تھی، جس کے بعد دونوں نے ہائی کورٹ میں پیش ہوکر اپنی رضامندی سے شادی کا بیان دیا۔پولیس حکام نے کہا کہ چک نمبر 5 میں ماچھی برادری کے افراد سرکاری زمین پر جھونپڑیاں بنا کر رہائش پذیر تھے اور شادی کے واقعے کے بعد انہوں نے اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر دوسری جگہ منتقلی اختیار کی۔

بدین پولیس نے کمبوہ برادری کی جانب سے گھروں کو آگ لگانے یا متاثرین کا سامان لوٹنے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو بھی مسترد کردیا۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ واقعے سے متعلق حقائق کو درست تناظر میں دیکھا جانا چاہیے اور غیرمصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر کسی فریق کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا۔تاہم متاثرہ ماچھی برادری اپنے الزامات پر قائم ہے ۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ اگر شادی کرنے والے جوڑے نے اپنی مرضی سے نکاح کیا تھا تو اس کی بنیاد پر پوری برادری کے خلاف کارروائی یا انہیں گھروں سے محروم کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ، انسانی حقوق کی تنظیموں، ضلعی انتظامیہ اور اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری اور غیرجانبدارانہ نوٹس لیا جائے ، متاثرہ خاندانوں کو تحفظ اور ضروری امداد فراہم کی جائے اور گھروں کو نقصان پہنچانے ، سامان لے جانے اور نقل مکانی پر مجبور کیے جانے کے الزامات کی شفاف تحقیقات کرکے اصل حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔ واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل جیکب آباد میں پسند کی شادی پر گاؤں کے 120 گھر جلا دیئے گئے تھے ، جس کا کیس ابھی تک زیر سماعت ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...