اسلام آباد کو پانی سپلائی کیلئے دو نئے ڈیم چار سال میں مکمل ، طلال
پانی کا استعمال 240ملین گیلن یومیہ، دستیاب مقدار صرف 80ملین گیلن ہے کچی آبادیوں کے نام پر شہریوں کے حقوق سلب نہ کئے جائیں، طارق فضل
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے کہا کہ اسلام آباد میں پانی کی کمی پوری کرنے کے لیے دو نئے ڈیم آئندہ چار سال میں مکمل کیے جائیں گے جبکہ تمام سیکٹرز کی پرانی پائپ لائنیں بھی تبدیل کی جائیں گی۔قومی اسمبلی میں تمکین اختر نیازی اور دیگر ارکان کے اسلام آباد میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت، پانی صاف کرنے اور دوبارہ قابل استعمال بنانے کے پلانٹس کی تنصیب کی ضرورت سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پر جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت نے بتایا کہ اسلام آباد میں پانی کا یومیہ استعمال 240 ملین گیلن ہے جبکہ صرف 80 ملین گیلن دستیاب ہے ۔ پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے واپڈا کے ذریعے شادرہ اور دوتارا ڈیموں کی تعمیر کی فزیبلٹی سٹڈی کرائی جا رہی ہے ۔ دونوں منصوبے تین سے چار سال میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔
جن سے آئندہ 30 سے 40 سال تک پانی کی ضروریات پوری کی جا سکیں گی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پوش علاقوں اور ایف سیکٹرز میں رہنے والے بعض افراد ماہانہ 240 روپے کا پانی کا بل بھی ادا نہیں کرتے ۔ انہوں نے ارکان سے اپیل کی کہ پانی کے بلوں کی وصولی بہتر بنانے میں تعاون کریں، پانی کی بچت کی جائے اور گھروں میں گاڑیاں دھونے سمیت پانی کے ضیاع سے گریز کیا جائے ۔ انہوں نے بتایا کہ پانی کے بلوں کی ریکوری اس وقت صرف 10 فیصد ہے ۔ وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ انکروچمنٹ اور کچی آبادیوں کے نام پر پاکستان بننے سے پہلے یہاں آباد مکینوں کے حقوق سلب کرنے سے گریز کیاجائے ، اسلام آباد کے پوش سیکٹرز میں کچی آبادیاں موجود ہیں جہاں بسنے والوں کا معیار زندگی ناقابل بیان ہے ، ان کیلئے جامع پلان کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے ، یہ انتہائی قیمتی اراضی ہے ، اس پر سکیم بنائی جا سکتی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments