مقبوضہ کشمیر پر امریکی سفیر کا متنازعہ بیان،پاکستان برہم:امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی
جموں و کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ، امریکی سفیر کا بیان کشمیر پر واشنگٹن کے طویل عرصے سے قائم دستاویزی مؤقف سے انحراف،اقوام متحدہ کے منشور سے متعلق امریکی عزم کے منافی:دفتر خارجہ مقبوضہ جموں و کشمیر کا حتمی تصفیہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہوگا، امریکی سفیر کا بیان قابل مذمت ، دوٹوک مسترد کرتے ہیں، احتجاجی مراسلہ ناظم الامور کے حوالے
اسلام آباد(دنیا نیوز)بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گورکے مقبوضہ کشمیر کے دورہ اور اسے انڈیا کا حصہ قرار دینے کے متنازعہ بیان پر پاکستان برہم، امریکی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے ڈی مارش کردیا۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے دورے اور متنازعہ علاقے کی حیثیت سے متعلق امریکی بیان پر پاکستان میں موجود امریکی ناظم الامور کو طلب کر کے شدید تحفظات سے آگاہ کیا اور احتجاجی مراسلہ حوالے کرتے ہوئے امریکی سفیر کے بیان کو حقائق کے منافی قرار دیا ۔ دفتر خارجہ نے کہا جموں و کشمیر کی قانونی حیثیت کے خلاف بیان کو دوٹوک مسترد کرتے ہوئے سخت مذمت کرتے ہیں، جموں و کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے ، اس کی حیثیت کا حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے ، امریکی سفیر کا بیان بین الاقوامی قانون کی بالادستی اور اقوام متحدہ کے منشور سے متعلق امریکا کے عزم کے بھی منافی ہے ، امریکی حکومت کے عوامی بیانات جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کے مطابق ہونے چاہئیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کاحتمی تصفیہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہوگا۔ بھارت میں امریکی سفیر کا بیان مسئلہ کشمیر پر واشنگٹن کے طویل عرصے سے قائم دستاویزی مؤقف سے انحراف ہے ۔ پاکستان نے معرکۂ حق کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاک بھارت تنازع کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کو بھی سراہا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments