پیڈا ایکٹ کے تحت بغیرانکوائری برطرفی غیرقانونی:ہائیکورٹ
قانون میں برطرفی بطور سزا شامل نہ ہونے سے حکم قانوناً برقرار نہیں رہ سکتا جنرل ہسپتال میں پائپ چوری کے الزام میں برطرف گارڈ کو بحال کرنیکا حکم
لاہور (محمداشفاق سے )لاہور ہائیکورٹ نے جنرل ہسپتال میں اے سی کے پائپ چوری کرنے کے الزام میں برطرف سکیورٹی گارڈ کو بحال کرتے ہوئے قراردیا کہ پیڈا ایکٹ کے تحت انکوائری کے بغیر ملازم کو برطرف کرنا غیر قانونی ہے ،پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ میں برطرفی بطور سزا شامل نہیں، اس لیے اس قانون کے تحت ملازم کو برطرف کرنے کا حکم قانونی طور پر برقرار نہیں رہ سکتا۔جسٹس ملک اویس خالد نے درخواست گزار شفیق خوشنود کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا، درخواست گزار لاہور جنرل ہسپتال میں سکیورٹی گارڈ کے طور پر مستقل بنیادوں پر تعینات تھا۔ اس کے خلاف الزام عائد کیا گیا کہ اسے یکم مئی 2024 کو رات تقریباً ساڑھے چار بجے ہسپتال کے آرتھو وارڈ میں اے سی کے پائپ چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، جبکہ دوسرا الزام یہ تھا کہ وہ 15 جون سے 22 جولائی 2024 تک ڈیوٹی سے غیرحاضر رہا۔محکمے نے 15 جولائی 2024 کو شوکاز نوٹس جاری کیا، تاہم باقاعدہ انکوائری کو ختم کرتے ہوئے صرف شوکاز نوٹس کی بنیاد پر 24 جولائی 2024 کو ملازمت سے برطرف کر دیا۔
درخواست گزار کی محکمانہ اپیل بھی مسترد ہوئی، جبکہ پنجاب سروس ٹربیونل نے بھی درخواست کو نامناسب فورم قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا، جس کے بعد معاملہ لاہور ہائیکورٹ پہنچا۔ جسٹس ملک اویس خالد نے فیصلے میں لکھا کہ شوکاز نوٹس میں باقاعدہ انکوائری نہ کرانے کی کوئی مضبوط، معقول اور قابلِ جواز وجہ درج نہیں کی گئی تھی۔ متعلقہ اتھارٹی نے صرف یہ رائے ظاہر کی کہ انکوائری ضروری نہیں،یہ معاملہ محض کسی تسلیم شدہ دستاویز کا نہیں تھا بلکہ حقائق متنازعہ تھے ۔ درخواست گزار نے چوری کے الزام سے انکار کیا تھا اور بتایا تھا کہ سکیورٹی سپروائزر نے اسے آرتھو وارڈ کی طرف اے سی پائپ کاٹنے کی اطلاع دی، جس پر وہ موقع پر گیا لیکن وہاں کوئی شخص موجود نہیں تھا۔اسی طرح درخواست گزار نے غیر حاضری کے الزام سے بھی انکار کیا اور جون اور جولائی 2024 کا حاضری رجسٹر عدالت میں پیش کیا، جس میں بیشتر دنوں میں اس کی حاضری ظاہر ہو رہی تھی۔ لاہور ہائیکورٹ نے سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر الزام متنازعہ حقائق پر مبنی ہو اور اسے ثابت کرنے کے لیے شہادت، گواہوں اور جرح کی ضرورت ہو تو ملازم کو باقاعدہ انکوائری کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ملازم کو اپنے دفاع میں ثبوت پیش کرنے ، گواہ بلانے اور مخالف گواہوں پر جرح کرنے کا مناسب موقع دینا قدرتی انصاف اور آئینی تقاضا ہے ۔ خاص طور پر جب محکمہ کسی ملازم پر بڑی سزا عائد کرنا چاہتا ہو تو محض شوکاز نوٹس کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر کیس میں شوکاز نوٹس کے بعد لازماً مکمل انکوائری ضروری نہیں، لیکن اگر محکمہ انکوائری سے استثنا حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے تحریری طور پر قابلِ جواز وجوہات بیان کرنا ہوں گی۔ اس کیس کا ایک انتہائی اہم قانونی پہلو یہ تھا کہ محکمہ نے کارروائی پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ کے تحت شروع کی، لیکن آخر میں ملازم کو برطرف کردیا گیا عدالت نے دوٹوک الفاظ میں قرار دیا کہ چونکہ پیڈا ایکٹ کے تحت ‘برطرفی سزا کے طور پر شامل ہی نہیں، اس لیے اس قانون کے تحت ملازم کو نوکری سے برطرف کرنے کی سزا دینا قانونی اختیار سے باہر ہے ۔فیصلے کے مطابق آئین کے آرٹیکل 4 اور 10-A قانون کے مطابق برتاؤ، منصفانہ کارروائی کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے درخواست گزار کی برطرفی کے احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ ملازمت پر بحال کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے تاہم محکمہ کو یہ اختیار دیا کہ وہ درخواست گزار کے خلاف عائد الزامات کی بابت قانون کے مطابق باقاعدہ انکوائری کر سکتا ہے ۔ عدالت نے متعلقہ اتھارٹی کو درخواست گزار کی مراعات کے معاملے کا فیصلہ بھی کرنے کی ہدایت کی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments