مولانا فضل الرحمٰن ، اچکزئی کا متحدہ اپوزیشن پر اتفاق: وفاقی حکومت کا پی پی کو منانے کیلئے رابطہ
اپوزیشن قائدین کاپارلیمنٹ میں حکومتی طرز عمل پر تشویش کا اظہار،مشترکہ حکمت عملی طے کرینگے :سربراہ جے یو آئی ایاز صادق سے راجہ پرویز کی زیر قیادت وفد کی ملاقات، شکایات کے انبار لگا دیئے ، تحفظات کو دور کیا جائیگا:اسحاق ڈار
اسلام آباد (آن لائن،مانیٹرنگ ڈیسک )جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی سے گزشتہ روز اپوزیشن چیمبر میں ملاقات کی ، اس دوران ملکی سیاسی صورتحال، پارلیمانی امور، اپوزیشن جماعتوں کے باہمی تعاون اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کے بعد متحدہ اپوزیشن بنانے پر اتفاق کر لیا گیا۔ملاقات میں پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اسد قیصر،اپوزیشن کے پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک، چیف وہپ عامر ڈوگر، عاطف خان، شہرام ترکئی، ثناء اللہ مستی خیل ، علی اصغر خان، آصف محسود اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان اخونزادہ حسین یوسفزئی جبکہ جے یو آئی (ف)کی طرف سے رکن قومی اسمبلی عثمان بادینی، سینیٹر کامران مرتضیٰ، سینیٹر مولانا عبدالواسع اور مولانا کمال الدین موجود تھے ۔ملاقات کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اپوزیشن قائدین نے مطالبہ کیا کہ سابق وزیراعظم کی صحت کے معاملے پر کسی قسم کی سیاست نہیں ہونی چاہیے ،ملاقات میں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن کے ساتھ حکومتی رویے اور طرز عمل پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ملاقات سے قبل میڈیا سے مختصر گفتگو میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اگر ان کے ہاتھ میں ہوتا تو اب تک بانی پی ٹی آئی کا علاج بھی ہوچکا ہوتا جبکہ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ فیصلہ کیا ہے کہ متحدہ اپوزیشن بنائی جائے گی، متحدہ اپوزیشن کے حوالے سے یہ ابتدائی نشست تھی اور آئندہ مشاورت کے بعد مزید فیصلے کریں گے ، تمام اپوزیشن جماعتیں مل کر اور ایک ساتھ اپوزیشن کریں گی، رابطے بڑھائیں گے اور مشترکہ حکمت عملی طے کی جائے گی۔جے یو آئی سربراہ نے مزید کہا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈروں سے مشاورت ہوئی ، اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کے لیے بھی ماحول بننا چاہیے۔
صحافی نے سوال کیا کہ کیا پیپلزپارٹی کو ساتھ ملائیں گے ؟ اس پر انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی حکومت میں ہے ، ہم اپوزیشن کی بات کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق جے یو آئی (ف)اور اپوزیشن اتحاد کے درمیان اہم ملاقات میں اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس بھی آج بلانے کا فیصلہ کیا گیا جس میں آئندہ کی مشترکہ حکمت عملی اور پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن کے کردار کو مزید مو ثر بنانے پرمشاورت ہوگی۔دوسری طرف ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے گزشتہ روز پارلیمنٹ ہاؤس کے صدارتی چیمبر میں ملاقات کی، راجہ پرویز اشرف کی زیر قیادت وفد میں نوید قمر،اعجاز جاکھرانی،شیری رحمن،سینیٹر سلیم مانڈوی والا و دیگر شامل تھے جبکہ وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔
رائع کے مطابق ملاقات میں پیپلز پارٹی نے قانون سازی و دیگر پارلیمانی امور پر اپنے تحفظات سپیکر کو پیش کئے اور سیاسی معاملات میں نظر انداز کئے جانے کی شکایات کے انبار لگا دیئے ۔سپیکر قومی اسمبلی نے اختلافات کے خاتمے کیلئے پل کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا ، ملاقات کی اندرونی کہانی بھی سامنے آگئی ۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر انتخابات کے حوالے سے بھی تحفظات سے آگاہ کیا اورحکومت کو خبردار کیا کہ اگر وعدہ خلافیوں کا سلسلہ جاری رہا تو ساتھ چلنا مشکل ہوجائے گا، آزاد کشمیر انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کی جائیں ۔حکومتی وفد نے مو قف اختیار کیا کہ اگر پیپلز پارٹی آزاد کشمیر انتخابات میں دھاندلی کے ٹھوس شواہد فراہم کرے تو تحقیقات کرانے کو تیار ہیں ، قانون سازی کے معاملے پر بھی پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ اتحادی جماعت کے تحفظات کو دور کیا جائے گا،ملاقات میں دونوں جماعتوں نے باہمی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں اتحادی جماعتیں اختلافات ختم کریں ، اس مقصد کیلئے کردار ادا کرتے رہیں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments