مکہ معاہدہ مشرق وسطیٰ ، جنوبی ایشیا میں امن کی ضمانت،بلومبرگ
صدر ٹرمپ نے بھی معاہدہ کا خیرمقدم،مشرق وسطیٰ کیلئے اہم قرار دیا ، جریدہ کالیبر
اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر)سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے کو مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے ۔ عالمی جریدے بلومبرگ اور آذربائیجان کے جریدے کالیبرکے مطابق یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن واستحکام کی ضمانت ہے جو تین اہم علاقائی طاقتوں کو ایک مشترکہ دفاعی فریم ورک میں جوڑتا ہے ۔بلومبرگ کے مطابق معاہدے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی ایک رکن ملک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق یہ شق مشترکہ دفاع اور باہمی سلامتی کے عزم کو واضح کرتی ہے اور خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے تناظر میں اہمیت رکھتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مشترکہ دفاعی تعاون کا مقصد علاقائی نظام میں موجود انتشار کو کم کرنا اور سلامتی کے لیے ایک زیادہ مربوط فریم ورک تشکیل دینا ہے ۔ آذربائیجان کے جریدے کالیبرکے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مشرق وسطیٰ کے ممالک کی دفاعی صلاحیت بہتر بنانے کیلئے اہم قرار دیا ہے ۔کالیبر کے مطابق پاکستان کی جوہری صلاحیت، وسیع فوجی افرادی قوت اور امریکا کے ساتھ اس کی تاریخی اتحادی حیثیت اس دفاعی فریم ورک کو اضافی سٹرٹیجک وزن فراہم کرتی ہے ۔ رپورٹ میں پاکستان کے کردار کو خطے میں سلامتی کے ایک اہم عنصر کے طور پر اجاگر کیا گیا ہے ۔تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی تعاون نہ صرف تینوں ممالک کے باہمی تعلقات کو نئی جہت دے سکتا ہے بلکہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں علاقائی سلامتی کے مستقبل پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments